حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 518
حقائق الفرقان سُوءَ الْعَذَابِ ۔ (البقرة : ۵۰) ۵۱۸ ۲۔ پھر جنگل میں موقع پر پانی برسایا اور بلا محنت رزق دیا۔ سُورَةُ الْبَقَرَة ۔ بادشاہ ہو گئے لیکن چونکہ انہوں نے انعام البہی کی قدر نہ کی اس لئے ان پر پھر طرح طرح کے عذاب آئے۔ عقاب۔ یہ عقاب نکلا ہی عقب سے۔ مطلب یہ کہ اللہ کی سزا اعمال کے عقب میں نازل ہوتی ہے چنانچہ فرمایا مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ (الشوری: ۳۱) مَا اور مِنْ حصر کے لئے ہیں گویا بڑی تاکید سے فرماتا ہے کہ تمہاری تکالیف تمہاری نافرمانی کا نتیجہ ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مورخه ۲۲ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۶) العقاب۔ وہ عذاب جو نا فرمانی کے بعد نازل ہوا۔ ( تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۴۲) بنی اسرائیل کو کس قدر کھلے کھلے نشان دیئے ۔ ان کے دشمن کو ان کے سامنے اسی بحر میں جس سے وہ صحیح سلامت نکل آئے ان کے دیکھتے دیکھتے ہلاک کیا۔ ان کے املاک کا وارث کیا اور پھر یہ کہ بنی اسرائیل سب کے سب غلام تھے ۔ حضرت موسی خود فرماتے ہیں وَ تِلْكَ نِعْمَةُ تَيْتُهَا عَلَى أَنْ عَبَدَتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ (الشعراء : ۲۳) خدا نے ان پر یہاں تک فضل کیا کہ غلامی سے بادشاہی دی ، نبوت دی، تمام جہانوں کے لوگوں پر فضیلت دی۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ اِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا وَاتْكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ (المائدة: (٢) لیکن بنی اسرائیل نے ان انعامات ! انعامات الہی کی کچھ قدر نہیں کی تو وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَ جب اے ہمیں نے تمہیں فرعونیوں کے پنجے سے چھڑا یا تھا وہ تمہیں بڑی بڑی تکلیفیں دیتے تھے ۔ ۲ے اور تم پر جو کچھ مصیبت پڑتی ہے وہ تمہاری ہی بداعمالیوں کی وجہ سے ہے۔ سے اور یہ نعمت جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے اس لئے ہے کہ تو نے غلام بنا رکھا ہے بنی اسرائیل کو ۔ ہے اُس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تم کو بادشاہ بنایا یعنی سلطنت والی قوم اور تم کو وہ کچھ دیا جو تمہارے زمانے میں کسی کو ہم نے نہیں دیا تھا دنیا جہان سے۔ (ناشر)