حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 503
حقائق الفرقان ۵۰۳ سُورَةُ الْبَقَرَة صاحب استطاعت منتخب ہوئے تا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر تبادلہ خیالات کریں اور مختلف خیالات و دماغوں کا ایک اجتماع ہوا اور سب کے سب مل کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کو بیان کریں۔ حج میں ایک کلمہ کہا جاتا ہے لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَةَ لَكَ وَ الْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ جس کا مطلب یہ ہے کہ اے مولی ! تیرے حکموں کی اطاعت کے لئے اور تیری کامل فرمانبرداری کے لئے میں تیرے دروازے پر حاضر ہوں۔ تیرے احکام اور تیری تعظیم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ غرضکہ یہ حقیقت ہے مذہب اسلام کی جس کو مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر دن میں پانچ دفعہ کل مسلمانوں کو اللہ اکبر کے لفظ سے بلایا جاتا ہے۔ کوئی نادان اسلام پر کیسے ہی اعتراض کرے کہ ان کا خدا ایسا ہے ویسا ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے اللہ اکبر سے بڑھ کر لفظ وضع نہیں کر سکتا۔ نماز کے لئے بلاتے ہیں تو اللہ اکبر سے شروع کرتے اور ختم کرتے ہیں تو رحمہ اللہ پر۔ حج کے برکات میں سے ایک یہ تعلیم ہے جو کہ اس کے ارکان سے حاصل ہوتی ہے کہ انسان سادگی اختیار کرے اور تکلفات کو چھوڑ دے۔ اس کے ارکان کبر و بڑائی کے بڑے دشمن ہیں۔ دور دراز کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ احباب اور اقارب چھوٹتے ہیں ۔ سستی اور نفس پروری کا استیصال ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک بات یہ ہے کہ ہزاروں ہزار سال سے ایک معاہدہ چلا آتا ہے وہ یہ کہ جناب الہی کے حضور حاضر ہو کر منظور کرتا ہے اور بہت سی دعائیں مانگتا ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه (۱۳) حج - عاشق جب سنتا ہے کہ میرا محبوب فلاں شخص کو نظر آیا اور فلاں مقام پر ملا تو وہ دیوانہ وار اس کی طرف دوڑتا ہے اور اسے تن بدن کا کچھ ہوش نہیں رہتا۔ نہ گرتے کی خبر ہے نہ پاجامہ کی۔ پھر وہاں جا کر دیوانہ وار مکانوں میں گھومتا ہے بعینہ یہ عبادت حج کا نظارہ ہے۔ یہ بھی کسی غیر کے لئے جائز نہیں۔ ایک شخص نے مجھے کہا وہاں مکہ میں جا کر کیا لینا ہے۔ علی گڑھ حمایت الاسلام کا جلسہ کافی اے میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں ۔ سب تعریف اور نعمت اور بادشاہت تیرے لئے ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ (ناشر)