حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 491
حقائق الفرقان آجاتا ہے۔ ۴۹۱ سُورَةُ الْبَقَرَة البدر جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۲ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۱) ۱۹۱ - وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - ترجمہ ۔ اور اللہ کی راہ میں تم اُن سے لڑو جو لوگ تم سے لڑیں اور زیادتی نہ کرو۔ بے شک اللہ دوست نہیں رکھتا زیادتی کرنے والوں کو۔ تفسیر - الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ - جو تم سے لڑائی کرتے ہیں ۔ وہ بھی از خود نہیں بلکہ ایک امام کے ماتحت ۔ فرما یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ( بخارى كتاب الجهاد و السَّيْرِ باب يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الإِمَامِ وَيُتَّقى به) امام ایک سپر ہے اسکے پیچھے لڑا جاتا ہے۔ ایک سپاہی دوسرے سپاہی کو مارتا ہے مگر اس کا واقف نہیں ہوتا۔ کوئی پوچھے یہ جو اس کے مقابلہ کے لئے آگ ہو رہا ہے آخر کوئی وجہ؟ تو اس کا یہی جواب ہوگا کہ وجہ ان کے آفیسر کو معلوم ہے۔ پس سپاہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آفیسر کا تابع رہے۔ وَلَا تَعْتَدُوا ۔ حد سے نہ بڑھو۔ یہ اس لئے فرمایا کہ سپاہی کو جوش میں حد کی خبر نہیں رہتی اس لئے اس کی ہر ایک حرکت اپنے آفیسر کے ماتحت ہونی چاہیے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مؤرخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۳) اللہ کے رستے میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے مت بڑھو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پیار نہیں کرتا۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۴۳ حاشیہ ) مقابلہ کرو اعلاء کلمۃ اللہ میں اُن سے جو تم سے مقابلہ کرتے ہیں اور حد سے نہ بڑھنا۔اس کے معنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانشین نے یہ کئے ہیں کہ لڑکے، عورتیں ، بڑھے، فقیر اور تمام صلح جو نہ مارے جائیں۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۴) اور خدا کی راہ میں انہیں سے لڑو جو تم سے لڑیں اور اور حد سے مت بڑھو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں