حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 484
حقائق الفرقان لد ٧لد سُورَةُ الْبَقَرَة لَيْسَ البر ۔ انسان کو ایک زبردست طاقت کا خیال ہمیشہ رہتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ ہر ایک مذہب میں جناب النبی کا عظمت و جبروت ضرور مانا جاتا ہے۔ جولوگ اس سے منکر ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ ایک عظیم الشان طاقت ضرور ہے جس کے ذریعہ سے یہ نظام عالم قائم یہ نظام عالم قائم ہے اس کے قرب کے حاصل کرنے والے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ جسمانی سامان حاصل کر کے جسمانی آرام حاصل کیا جاوے جیسے ایک دکاندار کی بڑی غرض و آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کا گا ہک واپس نہ جاوے۔ ایک اہلِ کسب ایک دور و پیہ کما کر پھولا نہیں سما تا لیکن ایسے لوگ انجام کار کوئی خوشحالی نہیں پاتے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہش محدود ہوتی ہے اسلئے محدود فائدہ اُٹھاتے ہیں اور محدود خیالات کا نتیجہ پاتے ہیں۔ بعض اس سے زیادہ کوشش کرتے ہیں اور ان پر خواب اور کشف کا دروازہ کھلتا ہے اس قسم کے لوگوں میں بھلائی اور اخلاق سے پیش آنے کا خیال وارادہ بھی ہوتا ہے مگر چونکہ اُن کی عقل بھی محدود ہوتی ہے اس لئے ان کی راہ بھی محدود ہوتی ہے۔ ایک حد کے اندر اندر رہتے ہیں اور ان کو مشیر بھی محدود الفطرت ملتے ہیں ۔ تیسری قسم کے لوگ کہ کوئی بھلائی ان کی نظر میں بھلی اور برائی بدی کسی محدود خیال سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی نظر وسیع اور اُس بات پر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات واراء الوراء ہے۔ کوئی عقل اور علم اُسے محیط نہیں بلکہ کل دنیا اس کی محاط ہے۔ اس کی رضا مندی کی راہوں کو کوئی نہیں جان سکتا بجز اس کے کہ وہ خود کسی پر ظاہر کرے۔ یہ نظر انبیاء اور رسل اور ان کے خلفاء راشدین کی ہوتی ہے وہ نہ خود تجویز کرتے ہیں اور نہ دوسرے کی تراشیدہ تجاویز مانتے ہیں بلکہ خدا کی بتلائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں۔ عرب کے نادانوں کو خیال تھا کہ جب وہ گھر سے حج کے لئے نکلیں اور پھر کسی ضرورت کے لئے اُن کو واپس گھر آنا پڑے تو گھروں کے دروازہ میں سے داخل ہونا وہ معصیت خیال کرتے تھے اور پیچھے سے چھتوں پر سے ٹاپ کر آیا کرتے تھے اور اسے ان لوگوں نے نیکی خیال کر رکھا تھا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ باتیں نیکی میں داخل نہیں بلکہ نیکی کا وارث تو متقی ہے۔ تم اپنے گھروں میں دروازہ کی راہ سے داخل ہوا کرو اور تقوای اختیار کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ (الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ ءصفحہ ۱۳ ، ۱۴ )