حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 458
حقائق الفرقان لد ٧٥ سُورَةُ الْبَقَرَة حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے روزہ سے بھی سکھ حاصل ہوتا ہے اور اس سے انسان قرب حاصل کر سکتا اور متقی بن سکتا ہے اور اگر لوگ پوچھیں کہ روزہ سے کیسے قرب حاصل ہو سکتا ہے تو کہہ دے فانی قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ الخ - الحکم جلد ا ا نمبر ۱ ۴ مؤرخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ صفحه ۵ ) شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرة : ١٨٦) رمضان کا مہینہ ایسا با برکت ہے کہ اس کے متعلق قرآن شریف میں ذکر ہوا ہے اور اس میں ایک خاص عبادت کے احکام نازل ہوئے ہیں ۔ صحه کیا ہی سچے اور صیح معنے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کلمہ طیبہ کے یہ معنے کئے ہیں کہ قرآن شریف سارا یک دفعہ رمضان کے مہینہ میں نازل ہوا تھا۔ پھر اس تفسیر کو قرآن شریف کے تئیس سالہ نزول مختلف اوقات و مختلف مقامات کے مخالف پا کر اپنی تفسیر کی ۔ یوں تفسیر کی ہے کہ پہلے رمضان کے مہینہ میں قرآن شریف اکٹھا کسی آسمان پر نازل ہوا تھا وہاں سے رفتہ رفتہ تئیس سال کے عرصہ میں زمین پر آیا ۔ بعض اصحاب نے کچھ اور توجیہات بھی نکالی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ قرآن شریف کا کچھ مہ ماہ رمضان میں بھی نازل ہوا۔ اور یہ صحیح بات ہے لیکن میری رائے میں قرآن شریف کے ماہ رمضان میں نازل ہونے کی ایک صحیح تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس مبارک مہینہ میں قرآن زول ہونے کی ایک عما تاریں یہ ہی ہوتی ہے کہ اس مبارک مہینہ میں حصہ شریف کے پڑھنے اور سننے اور اس پر عمل کرنے کا اس قدر موقع ہوتا ہے کہ گویا اس ماہ میں ہر سال نئے طور پر قرآن شریف نازل ہوتا ہے۔ مجھے جنٹلمینوں کی تو خبر نہیں جو ملاقاتوں ، تماشاؤں اور ناول خوانی وغیرہ سے فارغ ہو کر رات کے ۲ بجے بستر پر گرے تو صبح کے دس بجے اُٹھ کر چائے پی مگر پرانے لوگوں میں اتنی نیکی اب تک چلی آتی ہے کہ گیارہ مہینے کیسی ہی غفلت میں گزرے ہوں رمضان کے روزے ضرور اہتمام سے رکھے جاتے ہیں اور اس ماہ میں نمازوں کی پابندی بھی کی جاتی ہے اور صدقہ و خیرات کا دروازہ بھی حسب مقدور کھولا جاتا ہے۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ ء صفحہ ۷ )