حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 446
حقائق الفرقان ۴۴۶ سُورَةُ الْبَقَرَة ایسا بنانے کی کوشش کریں گے کہ اس کے لئے دوبارہ مجھے کہنے کی ضرورت نہ ہو ۔ الحکم جلد ۱۶ نمبر ۱۰ مورخه ۱۴ / مارچ ۱۹۱۲ء صفحه ۲) ١٧٩ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنثى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَدَاء إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ - ترجمہ ۔ اے ایماندارو! تم پر لازم کیا جاتا ہے برابری کرنا مارے جانے والوں میں شریف کے بدلے شریف ، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت جس ( قاتل کو ) معاف کیا گیا اُس کے بھائی (مقتول کے وارث ) کی جانب سے کچھ تو ملنا چاہئے دستور ( شرع) کے مطابق (اور عوض خون کا مقتول کے وارث کو ) دے دینا چاہئے نیک سلوک سے یہ آسانی اور مہربانی ہے تمہارے رب کی طرف سے پھر جو زیادتی کرے اس کے بعد تو اس کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے۔ تفسیر۔ کتب لکھا گیا ہے یہ قانون ۔ قصاص۔ بدلہ جو وارثان مقتول ، قاتل سے لیتے ہیں ۔ اس میں جہاد کا ایماء ہے کہ جب قصاص ضروری ہے تو پھر تم بھی اپنے مقتولوں کا بدلہ لو جو کفار وقتا فوقتا کرتے رہتے ہیں۔ محد - آزاد ۔ اصیل ۔ باقی رہی یہ بات کہ حرہ عبد کے مرد ، عورت کے مقابلہ میں بھی مارا جائے یا نہیں؟ اس کا جواب پے سورۃ مائدۃ رکوع ۱۱ میں موجود ہے اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ (المائدة : ۴۶) عفی لے ۔ قتل کا بدلہ یا دیت کا کچھ حصہ ہی معاف کر دیا جائے۔ فَاتَّبَاعُ بِالْمَعْرُوفِ ۔ وارثان مقتول کو تابع ہونا چاہیے ۔ قاتل کے ساتھ قاعدہ حکومت وعرف کے مطابق اور چونکہ بدلہ قتل نہیں لیا گیا اس لئے خوبی سے ادا کریں۔ ذلِكَ تَخْفِيفَ مِنْ رَبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ - عرب میں ایک کے بدلے سینکڑوں قتل کر دیئے جاتے ے کہ جان کے بدلے جان ۔ (ناشر)