حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 434
حقائق الفرقان ۴۳۴ سُورَةُ الْبَقَرَة غیر مذہب کا شخص بڑے زور سے کہہ رہا تھا غلاموں کی آزادی دلانے والا عیسائی مذہب ہے۔ میں نے کہا کہ مسیح ناصری نے کوئی قانون ان کے لئے نہیں بنایا نہ کوئی حصہ مقرر کیا مگر ہماری شریعت میں قانون ہے جو ان آیات میں مذکور ہے اور پھر بیت المال کا حصہ ان کے لئے مقرر ہے۔ چھ مصرفوں کا ذکر تو یہاں کیا اور پارہ ۱۰ میں دو مصرف اور بتائے ہیں ایک مؤلفۃ القلوب۔ میرے نزدیک اس زمانہ میں بھی یہ بہت ضروری ہے۔ دوم اس محکمہ زکوۃ کے جو ملازم ہیں ان کی تنخواہ۔ و اقام الصلوة ۔ وہ پاک عبادت جس کا نام نماز ہے غفلتوں ، ہستیوں ، ناکامیوں میں اسے قائم رکھے۔ واتى الزكوة - زکوۃ دے۔ تزکیہ نفس بھی کرے۔ وَالصَّبِرِينَ فِي الْبَاسَاء - باساء کہتے ہیں غریبی ، تنگ دستی کو۔ یہ بری بلا ہے۔ کسی کے گھر میں شادی ہو۔ غریب کے گھر میں بیوی بچوں کے اصرار کی وجہ سے جو وہ کپڑوں اور زیوروں کی وجہ سے کر رہے ہیں ماتم ہو رہا ہے۔ امراء میں عید ہے مگر غریب کے گھر رونا پڑا ہوا ہے مگر مومن ان مشکلات کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔ پھر اس سے بڑھ کر مشکل ایک اور ہے۔ و الضراء ۔ وہ کیا ہے ۔ بیماری ۔ چاہے کا نٹا ہی کیوں نہ چھا ہوا ہو ۔ پیٹ میں کیوں نہ درد ہو۔ آنکھ ہی دکھتی ہو سارا مریض کے لئے اندھیر ہو جاتا ہے اور دولت ، بیوی ، بچے ، عیش وعشرت کے سامان سب بڑے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک شخص میرے پاس آیا کہ بیوی حسین موجود ہے قوت رجولیت نہیں خودکشی کرلوں گا اگر تم نے کوئی امید نہ دلائی ۔ دیکھو کیسا نازک مقام ہے مگر مومن نہیں گھبرا تا ده استقلال و استقامت سے رہتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور مصیبت ہے۔ وَحِيْنَ الْبَأْسِ ۔ وہ ہے مقدمات کی ۔ (خواہ جہا د شمشیر کی صورت میں ہو۔ خواہ جہاد قلم کے رنگ میں ہو ) یہ بہت بری بلاء ہے۔ دیکھو جنگوں میں کتنی سلطنتیں تباہ ہوئیں ۔ کتنی مقروض ہوئیں ۔ کتنے جوان سپاہی اور سپہ سالار ہلاک ہوئے۔ ایسے وقت سچا مومن وہ ہے جو مستقل مزاج رہے۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۰،۲۹)