حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 33

حقائق الفرقان ۳۳ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة علامات ہیں۔ (۱) علم ہو عمل نہ کرے۔ (۲) کسی سے بے جا عداوت رکھے۔ ضالین وہ بھولا بھٹکا انسان جو کسی سے بے جا محبت کرے اور سچے علوم سے بے خبر ہو۔ پس انسان کو چاہیے کہ یہ دعا کرے کہ اپنا منعم علیہ بنا لے مگر ان انعام کئے گیوں سے کہ جن پر تیرا نہ غضب کیا گیا ہو نہ وہ بھو۔ گیا ہو نہ وہ بھولے بھٹکے ۔ البدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۱۰) مَغْضُوب ۔ یہود۔ جن میں بے جا عداوت ہے اور علم پڑھ کر عمل نہیں کرتے۔ ضالِّينَ ۔ بہکے ہوئے ۔ نصاری۔ جنہوں نے اپنے نبی سے بے جا محبت کی اور علوم الہی کو سیکھنے کی بجائے اپنی رائے کے تابع ہوئے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۲) الضَّالِّينَ ۔ راستہ سے بہک جانے والے بے جا محبت کرنے والے۔ بے علم حضرت مسیح موعود نے اس کے معنے گم ہو جانے والے کے کئے ہیں کیونکہ یہ لوگ آخر اس سلسلہ میں گم ہو جائیں گے اور اس مضمون پر دلیل یہ آیت قرآنی ہے ۔ ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ (السجدة : 11) ۔ - البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۶ ) ضالِّينَ ۔ ان کے دو نشان ہیں ۔ 1۔ الٰہیات کا علم نہ ہو مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لا بابهم ( الكهف : ۶ - ۲ - کسی سے بے جا محبت جیسے نصاری۔ ضالین میں چونکہ شد و مد ہے اس میں بتایا کہ ان کا زمانہ لمبا اور مضبوط ہوگا ۔ ( تشحید الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۳۵) جب انسان منعم بن جائے اور اسے آسودگی ملے بلحاظ اپنے مال کے اپنی قوت کے اپنی اولاد کے اپنی عزت و جبروت کے اپنے علم و معرفت کے تو پھر کبھی کبھی اعمال بد کا نتیجہ یہ ہو جاتا ہے کہ غضب آ جاتا ہے۔ وہ اپنی آسودگی کو اپنی تدابیر کا نتیجہ سمجھ کر انہی تدابیر کو معبود بنا لیتا ہے اور بُرے عملوں میں پڑ جاتا ہے۔ اس لئے دعا سکھائی گئی کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ * (الفاتحة: ۷ )۔ میں منعم علیہ بن کر تیرا مغضوب نہ بنوں۔ ب نہ بنوں ۔ مغضوب کی دو علامات ہیں ۔ (۱) علم ہو عمل نہ کرے ۔ (۲) کسی سے بے جا عداوت رکھے ۔ ضالین وہ بھولا بھٹ کا انسان جو کسی سے بے جا محبت اہم مل جائیں گے زمین میں ۔ ۲۔ اس بات کا ان کو کچھ بھی علم نہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کو ۔ ( ناشر )