حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 408
حقائق الفرقان لد ٧٠ سُورَةُ الْبَقَرَة حال و قال سے کہتے ہیں ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ صبر کی مختصر حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر ایک نیکی اور نیک بات پر جما رہے۔ بدی سے رکا رہے۔ گو یا صبر تمام نیکیوں کا جامع ہے ۔ مشکل کے وقت بدی سے بچنا یہی تو صبر ہے۔ شہوت میں عفت ، غضب کے وقت حلم ، حرص کے مقابل میں قناعت ، وقار ، استقلال نار ، استقلال، ہمت ، عزه ، عزم پر کارفرما رہنا۔ شرع و عقل سلیم کی مخالفت نہ کرنی ۔ یہ سب صبر ہے۔ ( تشحیذ الا ذہان جلدے نمبرے ۔ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۷) صلوة کے معانی صلوۃ۔ تعریف کرنا، دعا کرنا۔ وَصَلِّ عَلَيْهِمْ - دعا کرو، تعریف کرو۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے رسول کی تعریف کر سکتا ہے دوسرا اس طرح کیونکر کر سکتا ہے۔ صلوۃ کے معنے رحمت کے نہیں ہیں کیونکہ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ ( البقرة - ۱۵۷) صَلَوْنَ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ (البقرۃ: ۱۵۸) میں صلوۃ کے معنے رحمت کے نہیں بنتے ۔ ( البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۵ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۹۳) پھر میں دیکھتا ہوں کہ انسان جس دنیا اور مال و اولاد کی خاطر ایسی ایسی تکلیفیں اٹھاتا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس کی مصائب میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ ذرا پیٹ میں درد ہو تو اس کے ہٹانے والا کوئی نہیں۔ غور کرو۔ مجھے حضرت مرزا صاحب نہایت ہی پیارے ہیں ۔ میں نے ملک، وطن، نوکریاں، زمین، ہر قسم کے ذرائع تحصیل مال و منال ان کے حضور خاص رہنے کی خاطر چھوڑیں ہیں۔ اگر کہیں جاتا بھی ہوں تو صرف ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور بھی یہاں تک مجھے وہ پیارے ہیں کہ اگر میرے پچاس بیٹے ہوں تو میں اس کے ایک بیٹے پر ان پچاس کو قربان کر دوں لاکن غور کرو جب مجھے کوئی دکھ، درد، تکلیف پہنچتی ہے۔ وہ بھی بجز رضاء الہی کے ہرگز ہرگز ہرگز میرے دکھ درد کا حصہ نہیں لے سکتے ۔ پس اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگو اور صبر اور استقلال سے کام لو۔ اس کی لے وہ بول اٹھتے ہیں ہم تو اللہ کے ( مال ) ہیں اور ہم تو ہر حال میں اُسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں ۔ اُن کے رب کی نوازشیں اور رحمت ہیں۔ (ناشر)