حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 404 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 404

حقائق الفرقان لد ولد سُورَةُ الْبَقَرَة دینا۔ چہارم اگر لڑکیاں بیمار ہو جاویں تو ان کا علاج نہ کرنا اور یہ کہنا کہ ان کو موت کہاں آتی ہے۔ پھر بہتان باندھنے سے باز آؤ ۔ بہتان وہ عیب کی بات ہے کہ جو کسی شخص میں نہ ہوا اور اس پر وہ عیب لگا یا جاوے ۔ وہ بہتان جو تم اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے بناتی ہو اور بھلے کاموں میں تیری نافرمانی نہ کریں۔ پھر ایسی عورتوں کے واسطے مغفرت مانگ ۔ پس ہر ایک عورت کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرید ہونا چاہتی ہے یا اپنے آپ کو مرید سمجھتی ہے یعنی مسلمان کہلاتی ہے ضروری ہے کہ وہ ان بری باتوں کو چھوڑ دے ورنہ وہ نام کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار میں شامل ہو کر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حصہ نہیں لے سکتی ۔ وکر خدا تعالی ۔ غور کرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قرآن کریم کے پہنچانے میں کتنی کتنی مصیبتیں بھی آئیں آخر حضور نے اس کو پہنچایا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس نے صرف خدا تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے سارے قرآن کو ایک بار بھی سمجھ کر پڑھا ہو یا سنا ہو۔ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی جس کو کافروں نے کہا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے مگر اس نے انکار کیا۔ اس پر ان شریروں نے اس کی شرمگاہ میں برچھی مار کر گلے سے نکالی ۔ اس کا خاوند دیکھتا تھا اسے کہا تو بھی گالی دے ورنہ تیرا بھی ایسا ہی حال ہو گا چنانچہ اس نے بھی انکار کیا اور انہوں نے اس کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے اور دوسری دوسرے سے باندھ کر ان کو الگ الگ چلا دیا اور اس کو اس طرح پر پھڑوا کر مروا ڈالا ۔ دیکھو وہ کیسے مبارک لوگ تھے۔ اس قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کیا کیا تکلیفیں برداشت کیں اگر تمہارے کسی پیارے شخص کی کوئی چٹھی آوے تو جب تک تم اسے پڑھ یا پڑھا نہ لو تمہیں چین نہیں آتا ۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی چٹھی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان شخص لانے والا مگر اس کی کچھ پرواہ نہیں کی جاتی ۔ پیار یو! اللہ تعالیٰ بڑا نکتہ گیر اور نکتہ نواز ہے ہر وقت اس سے ڈرنا چاہئے ۔ میں تمہیں ایک آپ بیتی کہانی سناتا ہوں شاید تم میں سے کوئی نیک بی بی نصیحت پکڑے ۔ میری والدہ صاحبہ نے اسی برس تک قرآن پڑھایا اور ان کے ہم نو بچے تھے۔ ہمارے ہاں ایک بڑا مال و اسباب اور کتب خانہ بھی تھا۔