حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 394
حقائق الفرقان ۳۹۴ سُورَةُ الْبَقَرَة حیات جاوید پائی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخه ۲۵ مارچ ۱۹۰۹ صفحه ۲۴، ۲۵) اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ ۔ یہ مشکلات سے نکلنے کا علاج ۔ طاعت الہیہ کرو اور بدیوں سے بچو۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۰) پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں تھے تو صرف ایک بت پرست قوم آپ کی دشمن تھی لیکن اس دشمن کے ہوتے آپ کے گنبہ اور قوم کے لوگ آپ کا ساتھ دیتے تھے۔ آپ ان کے باریک منصوبوں کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ آپ کا بال بال ان کے رشتوں میں گتھا ہوا تھا اور تکالیف کے باعث آپ کو اور آپ کے اتباع کو بہت مشکلات پیش آئے مگر جب آنحضرت مدینہ میں پہنچے تو ہر ایک قسم کی تکلیف بڑھ گئی کیونکہ ایک بت پرست قوم تو دشمن تھی ہی مگر اب اوس اور خزرج کے بت پرست فرقے بھی دشمن ہو گئے ۔ پھر پڑھے لکھے یہودی بھی آمادۂ مخالفت ہوئے۔ ان کی چالبازیاں رسول اللہ صلعم کی ایزا کے لئے بہت باریک تھیں جن کا اشارہ اول ہاروت ماروت کے قصہ میں ہو چکا ہے پھر ان کے علاوہ بہن بنونضیر اور بنو قریظہ دشمن اور بنو قینقاع دشمن ۔ قریظہ دشمن اور ان سب کے علاوہ عیسائیوں کی طرار قوم دشمن پھر ان کے بھی علاوہ دوسری اقوام عرب تھیں جن کی نظروں میں آپ کا وجود مبارک کھٹکتا تھا اور سب سے مشکل یہ تھی کہ ان قوموں کی باریک اندرونی چالوں سے کیسے آگاہی ہو۔ یہ سب ایک دوسرے کو اور دوسری قوموں کو اکساتے تھے۔ اس لئے مدنی آیات میں آیا ہے يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ إِنْ لَّمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ (المائدة: ۶۸) کیونکہ سخت مشکلات کا سامنا تھا ان کے سامنے ملت ابراہیم کو پیش کیا گیا ہے جیسے کہ پیچھے ذکر ہوا اور اسی سخت مشکل کے وقت دوا تجویز کی گئی ہے جو کہ بتلاتی ہے کہ اس کا کیا فائدہ ہوا اور رکن رکن نے اس کا تجربہ کیا اور انہوں نے کیا برکات اور فوائد اس دوا سے حاصل کئے اور کیا نتیجہ نکلا ؟ وہ دو علاج ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے لے اے رسول! پہنچادے جو تیری طرف وحی کی گئی تیرے رب سے ۔ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تو نے اللہ کی رسالت نہ پہنچائی ۔ اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے ۔ (ناشر)