حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 392
حقائق الفرقان عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابراهيم: ۸) ۳۹۲ سُورَةُ الْبَقَرَة ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخه ۲۵ مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۲۴) كما ارسلنا ۔ اسی واسطے ہم نے رسول بھیجا۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۴۰) ۱۵۴، ۱۵۵ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلُوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ - وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ - ترجمہ ۔ اے ایمان والو! نیکیوں پر ہمیشگی اور بدیوں سے بچنے اور دعائیں کرنے پر مضبوط رہو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور نہ کہو اُن لوگوں کو مردے جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں بلکہ وہ (اللہ کے نزدیک ) زندہ ہیں لیکن تم سمجھ نہیں سکتے ۔ تفسیر اِسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ - جہاں تک میں نے تجربہ کیا ہے دکھوں، رنجوں، مصیبتوں وغیر ہا مسائل کے صاف کرنے میں اور پیش آمدہ امور کے متعلق فیصلہ دینے میں اللہ جل شانہ، نے جو راہ انسان کو دکھائی ہے اس سے بہت کم لوگ کام لیتے ہیں چنانچہ ایک راہ کا یہاں ذکر ہے۔ فرماتا ہے۔ اولوگو ! جو ایمان لا چکے ہوا استعانت کرو تو اللہ سے اور وہ بھی صبر وصلوۃ سے۔صبر سے مراد ہے روزہ اور بدیوں سے بچنا اور صلوۃ سے مراد ہے دعا ۔ ہر ایک تم میں سے اس بات پر غور کرے کہ لوگ اپنے مقصود کے پورا کرنے کے لئے بار یک دربار یک فکر کرتے ہیں یہاں تک کہ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رستہ میں اُنگلی اِدھر اُدھر گھماتے جاتے ہیں کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے مگر یہ طریق جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بدیوں سے بیچ کر روزہ رکھ کر جناب الہی میں خشوع و خضوع سے دعا کریں اس طریق پر انبیاء کے سوا دوسرے لوگ کم چلتے ہیں ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ ۔ ایسے لوگ جو صبر سے اور دعا سے استعانت کرتے ہیں اُن کے ساتھ ہم ہو جاتے ہیں۔ میں نے مشکل سے مشکل امور میں اس طریق کا تجربہ کیا اور میں شہادت دیتا ہوں لے اگر تم شکر کرو گے تو میں (خود) تم کو اور زیادہ کردوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میری مار بڑی سخت ہے ۔ ( ناشر )