حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 329 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 329

حقائق الفرقان ۳۲۹ سُورَةُ الْبَقَرَة ہمیں تو قرآن کریم یہود و نصاری کے اس غلط قول کو نصیحت کے طور ہمیں بتاتا ہے۔ وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصْرَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصْرَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَبَ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (البقرة: (۱۱۴) یہود نے کہا نصرانی کچھ بھی نہیں ۔ نصرانیوں نے کہا یہود کچھ ہی نہیں حالانکہ کتاب پڑھتے ہیں ۔ اس ھتے ہیں۔ اس طرح تو بے علم لوگوں نے کہا ہے یا کیا ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۰) یہ ایک عیب ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی نسبت رنج پیدا کر لیتا ہے۔ اگر آدمی حد سے بڑھ جائے تو یہ بھی ایک قسم کا جنون ہے ۔ ایسا ہی نصاری اور یہود میں رنج پیدا ہو گیا کیونکہ یہودیوں نے حضرت عیسی کو حقارت سے دیکھا اور رنج کیا تھا اس لئے نصاری ان پر عیب جوئی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو لاٹھی یقین کرتے ہیں ۔ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَبَ - حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں اور پڑھے ہوؤں کا یہ حال ہے۔ ایسا ہی آجکل مولوی وہابی یا حنفی اور یا دوسرے متفرق الطریق لوگ دوسروں پر اس قدر فتوے لگاتے ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ سب پڑھے ہوئے ۔ اب جاہلوں کی بات تو سمجھتے نہیں ۔ اب ان کو سمجھائے کون ۔ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۔ یہ لوگ جو مسجدوں سے منع کرتے ہیں آخر ذلیل ہوں گے۔ کامیابی کا منہ نہ دیکھیں گے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۴ وااار مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۹، ۲۰) عیب چینی کی راہ بہت ہی خطرناک راہ ہے۔ عیسائیوں نے اس راہ پر قدم مارا ۔ نقصان اٹھایا۔ ایک نبی کی معصومیت کے ثبوت کے لئے سب کو گناہ گار قراردیا۔ پھر آریہ نے یہی طریق اختیار کیا۔ وہ بھی دوسرے مذاہب کو گالیاں دینا جانتے ہیں ۔ پھر شیعہ ہیں وہ بھی خلفائے راشدین پر تبرہ بھیجنے کے گناہ میں پڑ گئے ۔ ایک دفعہ امرتسر میں میں نے ایک شخص کو قرآن کی بہت ہی باتیں سنائیں۔ میرا ازار بند اتفاق سے ڈھیلا ہو گیا ۔ آخر اس نے مجھ پر یہ اعتراض کیا کہ تمہارا پاجامہ سخنوں سے کیوں نیچا گیا۔ آخراس مجھ ہے۔ میں نے کہا اتنے عرصہ سے جو تم میرے ساتھ ہو تمہیں کوئی بھلائی مجھ میں نظر نہیں آئی سوائے اس