حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 315
حقائق الفرقان ۳۱۵ سُورَةُ الْبَقَرَة کا رفع نہ کرنا ابوبکر بن عیاش نے روایت کیا ہے اور یہ شخص معلول مختلط الخبر ہے۔ دیکھو بخاری کی جزء الرفع اور ابن معین نے تَوَهُمْ مِنْ ابْنِ عَيَّاشٍ لَا أَصْلَ لَهُ دویم ۔ عینی نے بیہقی سے روایت کیا کہ مجاہد کی روایت ( ابن عیاش والی ) ربیع لیث ، طاؤس، سالم ، نافع ، ابوالز بیر ، محارب بن دثار جیسے ثقون کے خلاف ہے یہ ثقہ لوگ ابن عمر سے اس رفع یدین کا کرنا نقل کرتے ہیں۔ سیوم ۔ ابن عمر سے مسند احمد میں مروی ہے إِنَّهُ إِذَا رَأَى (ابن عمر) مُصَلِّيَّا لَمْ يَرْفَعُ حصبة اور بخاری نے جزء الرفع میں کہا رَمَاهُ بِالْحَطی۔ بھلا جو شخص یہ تشدد کرے کہ رفع یدین نہ کرنے پر پتھر مارے وہ خود نہ کرے۔ 66 چہارم ۔ خاری نے جزو “ میں فرمایا ہے لَمْ يَثْبُتْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ - کے فرما صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعُ - پنجم ۔ ناسخ کو منسوخ کے مساوی ہونا چاہئے یہاں ایک طرف ابن عمر کا معلول اور بے اصل اثر دوسری طرف ابن عمر سے صحیح ثابت اثر بلکہ مرفوع روایت اور بیہقی کی حدیث جناب ابو بکر سے اور دار قطنی کی عمر رضی اللہ عنہ سے بلکہ پچاس صحابہ کی روایت اور بیہقی کی وہ روایت جس میں فمازالت سے تلك الصلوة حتى لقى الله والی موجود ہے اور سیوطی کا اس حد ، اور سیوطی کا اس حدیث کو ازہار میں احادیث متواتر سے شمار کرنا۔ ششم ۔ مانا کہ ابن عمر سے عدم رفع ثابت ہے پھر کیا غیر معصوم پر صرف یہ حسن ظن کر کے کہ اُس نے خلاف امر مشروع نہ کیا ہوگا۔ نبی معصوم کے ثابت فعل کو منسوخ کہہ دینا، انصاف ہے اور کیا صحابی کا عدم فعل شرعی امر کا ناسخ ہو سکتا ہے۔ اے ابن عیاش کا وہم ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں ۔ ہے کہ جب وہ (حضرت ابن عمر ) کسی کو نماز پڑھتے دیکھتے کہ اس نے رفع یدین نہیں کیا۔ تو اس کو کنکریاں مارتے ۔ بخاری نے جزء الرفع میں (حَصَبَہ کی بجائے) رَمَاهُ بِالْحَصَى کے الفاظ بیان کیے ہیں ۔ اسے کنکریاں مارتے۔ کنکریاں مارتے۔ ۳ ۔ رسول اللہ کے صحابہ میں ۔ صحابہ میں سے کسی سے ثابت نہیں۔ ابت نہیں ہے کہ اس نے رفع یدین نہیں کیا۔ (ناشر) ۴ آپ کی یہی نماز رہی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جاملے ۔