حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 312
حقائق الفرقان ۳۱۲ سُورَةُ الْبَقَرَة اکیسویں آیت : قُمِ اليْلَ إِلَّا قَلِيلا ، (المزمل: ۳) آخر سورۃ کے ساتھ منسوخ ہے اور بات یہ ہے کہ قیام اللیل ایک امر مسنون ہے ۔ آیات شریفہ میں فرضیت قطعی نہیں اور سنیت قیام اللیل کی بالا تفاق اب بھی موجود ہے۔ فقره ششم :- ضعف اور قلت کے وقت صبر اور درگذر کا حکم قرآن شریف میں بہت جگہ ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیتیں آیت قتال سے منسوخ ہیں اور یہ بات صحیح نہیں بلکہ قتال کا حکم تاخیر میں رہا ہے۔ سیوطی نے کہا دیکھو باب ناسخ منسوخ اتقان میں ۔ الثَّالِثُ مَا أُمِرَ بِهِ لِسَبَبٍ ثُمَّ يَزُولُ السَّبَبُ كَالْأَمْرِ حِيْنَ الضُّعْفِ وَالْقِلَّةِ بِالصَّبْرِ وَالصَّفْحِ ثُمَّ نُسِخَ بِالْجَابِ الْقِتَالِ وَهَذَا فِي الْحَقِيقَةِ لَيْسَ نَسُخًا بَلْ هُوَ مِنْ قِسْمِ الْمُنْسَاءِ كَمَا قَالَ تَعَالَى أَوْنُنْسِهَا الْمُنْسَاءُ هُوَ الْأَمْرُ بِالْقِتَالِ إِلَى أَنْ يَقَوِي الْمُسْلِمُونَ إِلَى أَنْ قَالَ 66 وَبِهَذَا يَضْعُفُ مَا لَهِجَ بِهِ كَثِيرُونَ مِنْ أَنَّ الْآيَةَ فِي ذَلِكَ مَنْسُوخَةٌ بِايَةِ السَّيْفِ وَلَيسَ كَذلِكَ بَلْ هِيَ مِنَ الْمُنْسَاء بِمَعْلَى أَنَّ كُلَّ أَمْرٍ وَرَدَ يَجِبُ امْتِقَالُهُ فِي وَقْتِ مَا لَعَلَّتِي تَقْتَضِي ذَالِكَ الْحَكَمُ ثُمَّ يَنْتَقِلُ بِانْتِقَالِ تِلْكَ الْعِلَّةِ إِلَى حُكْمٍ أَخَرَ وَلَيْسَ بِنَسْخِ إِنَّهَا النَّسْخُ الْإِزَالَةُ لِلْحُكْمِ حَتَّى لَا يَجُوزُ امْتِنَالُهُ ( یہ حتی لا یجوز کا لفظ یاد رکھنے کے قابل ہے خصوصاً الآن خفف اور اشفقتم وغیرہ میں ) لے کھڑا رہا کر رات کو مگر تھوڑی ہی رات (ناشر) ۲ تیسرے وہ جس کا حکم ایک سبب کی بنیاد پر دیا گیا۔ پھر وہ سبب جاتا رہا جیسے ضعف اور قلت ( کمزوری کی حالت اور تعداد کی کمی کی صورت ) میں صبر اور درگذر کا حکم دیا گیا اور پھر قتال کی فرضیت کے حکم سے وہ منسوخ کیا گیا۔ اور یہ فی الحقیقت نسخ نہیں ہے بلکہ وہ از قسم نسی“ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ آوْنُنْسِهَا ۔ اور نسی امر بالقتال سے متعلق ہے۔ یہاں تک کہ مسلمان طاقت پکڑ لی ۔۔۔۔۔ پھر کہا اس سے وہ موقف کمزور ہو جاتا ہے جس کو بہت سے لوگوں نے اپنایا کہ ( صبر و در گذر والی ) آیت منسوخ ہے آیت سیف سے۔ بات ایسے نہیں ہے بلکہ مفہوم یہ ہے کہ جو حکم بھی وارد ہوا ہے اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ اس موقع پر جو بھی اس کے عملدرآمد کا متقاض ا متقاضی ہو اور اس سبب ۔ سبب کے بدل جانے پر حکم دوسرے حکم کی طرف من طرف منتقل ہو جائے گا۔ اس میں کوئی نسخ نہیں ہے۔ نسخ تو صرف ازالہ حکم ہے یہاں تک اس پر عمل درآمد جائز نہ رہے۔ (ناشر)