حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 302
حقائق الفرقان ۳۰۲ سُورَةُ الْبَقَرَة فقره دوم :- فقرہ اوّل میں معلوم ہو چکا کہ نسخ کے معنے ابطال اور تغیر اور نقل کے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آیت ماننسخ میں ابطال کے ہی معنے مطلوب ہیں جیسے ابوسعود مجمع الجار سے ظاہر ہے اور اور علاوہ بریں جب ہم ناسخ اور منسوخ کا ذکر کرتے ہیں تو نقل والے معنے ضروری نہیں لئے جاتے ۔ کیونکہ اس صورت میں سارا قرآن منسوخ ہے اور تغیر کے معنی بھی مراد نہیں کیونکہ مطلق کی تقید اور عام کی تخصیص اور ایزاد شروط اور اوصاف کو اگر نسخ کہیں تو قرآن کی منسوخ آیتیں سینکڑوں کیا ہزاروں ہو جاتی ہیں۔ تخصیص اور نسخ اور تقید اور نسخ کا تفرقہ ثابت ہے۔ و نثبت انشاء اللہ تعالیٰ۔ یاد رکھو کہ ابطال ہی کے معنے میں نسخ کا لفظ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے۔ والقرآن يفسر بعضه بعض قال الله تعالى - إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أمْنِيَّتِهِ ۚ فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ الخ ( الحج : ۵۳) - آى يُزِيلُهُ وَيُبْطِلُهُ اور یاد رکھو کہ نسخ کے حقیقی معنے ابطال اور ازالہ کے ہیں۔ حقیقی معنے کو بدون ضرورت چھوڑ نا مناسب نہیں اور ان معنے کے لحاظ سے قرآن میں کوئی آیت منسوخ موجود نہیں ہے۔ یادر ہے کہ میں مطلق نسخ کے وقوع کا منکر نہیں ہوں ۔ فقره سوم :- جن آیات کو لوگوں نے منسوخ مانا ہے ان کے معنے کرنے میں نسخ کے ماننے والوں نے ابطال کے معنے میں ضرور تساہل کیا ہے۔ مجھے ایک زمانہ میں اس مسئلہ کی جستجو تھی اُس وقت ایک رسالہ ایسا ملا جس میں پانچ سو آیت سے زیادہ منسوخہ آیات کا بیان تھا۔ میں اسے سوچتا اور مصنف کی لا پرواہی پر تعجب کرتا تھا۔ تھوڑے دنوں بعد سیوطی کی اتقان دیکھی ۔ تو ایسی خوشی ہوئی جیسے بادشاہ کو ملک لینے کی۔ یا عالم کو عمدہ کتاب ملنے کی یا قوم کے خیر خواہ کو کامیابی کی ہوتی ہے۔ مجھ کو امام سیوطی کی ذکر کردہ آیات میں بھی تردد تھا۔ الا چھوٹا منہ بڑی بات پر خیال کر کے خاموش رہا پھر چند دنوں بعد فوز الكبير في اصول التفسیر راحت بخش دل مضطر ہوئے اس میں مصنف علامہ نے صرف پانچ ا قرآن کا بعض بعض ا بعض بعض دوسرے حصہ کی تفسیر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَانُ ۔۔۔۔۔۔ اس نے جب کچھ آرزو کی تو شریر و بد کار اس کی خواہش میں روک ڈالنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ شیطان کی خواہش کو مٹا دیتا ہے اور باطل کر دیتا ہے۔ آئی يُزِيلُه ويُبْطِلُهُ - یعنی اس کا ازالہ اور ابطال کرتا ہے۔ (ناشر)