حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 297

حقائق الفرقان ۲۹۷ سُورَةُ الْبَقَرَة میرے نزدیک یہ طریق اچھا نہیں متانت کے خلاف ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی یہ برائی پھیل گئی۔ ایک قصیدہ کے چند اشعار مجھے یاد ہیں جو اوّل سے آخر تک اسی قسم کی شرارت سے پر تھے ایک مصرعہ تمہیں سناتا ہوں ع تا سرت باشد ہمیشہ تاجدار یہاں تاجدار کے ایک معنے ظاہر ہیں اور دوسرے یہ کہ تاجدار یعنی تیرا سر دیوار سے ٹکر کھائے گیا ہو۔ اس طرح کے کلام سے ہمارے سردار نے ہمیں منع کیا ہے چنانچہ وہ فرماتا ہے راعِنَا نہ کہو کیونکہ اس کے معنے ایک تو یہ ہیں کہ ہماری رعایت کرو۔ ہم نہیں سمجھے دوبارہ سمجھا دو۔ دوم راعن کا لفظ عبرو میں گالی ہے ۔ احمق ، رعونت والے کو کہتے ہیں۔ اگر ایسی ضرورت پیش آ جائے تو بجائے رَاعِنَا کے جو ذو معنی لفظ ہے اُنظُرُ نا بولو جس کے معنے ہیں ہم غرباء کی طرف بھی آپ نظر رکھیں ۔ ان منکروں کے لئے جو اس قسم کے الفاظ نبی کریم کے حضور بولتے ہیں دُکھ دینے والا عذاب ہے۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۴ واار مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۸) انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے قوتیں ترقی کرنے کے لئے رکھی ہیں ۔ اور منشاء اُن کا یہ ہے کہ ایک دوسرے پر بڑھو اور ترقی کرو ایک آدمی دوسرے سے بڑھتا چلا جائے ۔ یہ فطرت انسان کی تمام ترقیات کے لئے رکھی گئی ہے۔ لیکن بعض لوگ ناجائز استعمال کر کے حسد سے کام لیتے ہیں۔ ایک شخص جو خوش چلن، نیک اور خوش رہنے والا ہو اس سے ان باتوں میں ترقی کرنے کے بجائے حسد کرتے ہیں۔ حسد کی صفت کو نا جائز استعمال کر کے اس کے منافع سے محروم رہتے ہیں۔ نیکیوں میں رشک کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ حسد کو جب ناجائز استعمال کرتے ہیں تو محسود کی نسبت بُرے الفاظ زبان سے نکالتے ہیں ۔ اللہ جلشانہ اس رکوع شریف میں فرماتا ہے کہ ایمان والو! لوگ دغا ، فریب اور حسد کے وقت برے برے الفاظ استعمال کیا کرتے ہیں ۔ تم کو چاہئے کہ تم ایسے دور نے ذومعنی الفاظ بھی استعمال نہ کیا کرو۔ دیکھو راعنا ایک دوڑ نہ لفظ ہے تم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے یہ لفظ بھی مت بولا کرو کیونکہ یہود کی زبان میں اس کے کچھ اچھے معنے نہیں ہیں۔ اس کی بجائے لے تا کہ تمہارے سر پر ہمیشہ تاج رہے۔ (ناشر)