حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 282
حقائق الفرقان ۲۸۲ سُورَةُ الْبَقَرَة افسر ہے اس کی باتیں بھی جامع ہیں ۔ پس ہر ایک ہدایت کی جڑ یہی جبرئیل ہے جس کی شان میں ہے فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلى قَلْبِكَ (البقرة: ۹۸) یعنی اس کی تمام تحریکوں کا بڑا مرکز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب ہے ۔ روو و پس ہمہ تن اس کے احکام کے تابع ہو جاؤ کیونکہ یہ جامع تحریکات جميع ملائکہ ہے اور اسی لحاظ سے قرآن شریف جامع کتاب ہے جیسا کہ فرماتا ہے فِيهَا كُتب قيمة البينة : ۴) تو گویا جو جبرئیل کا منکر ہے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر اللہ کے کلام کا کافر ہے۔ پھر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہے۔ پھر ایک اور ملک کا ذکر فرمایا ہے۔ جہاں تک میں نے سوچا ہے حضرت ابراہیم کی دعا ربنا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:۲۰۲) سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے کہ انسان کو دو ضرورتیں ہیں ایک جسمانی جیسے عزت، اولاد۔ ان کے اخراجات، کھانے کے ۔ لئے چیزیں، ایک روحانی، جبرائیل کے بعد ایسی تحریکوں کا مرکز میکائیل ہے۔ اللہ نے دین بنایا۔ دنیا بھی بنائی ۔ یہ جہان بھی بنایا وہ جہان بھی ۔ دونوں تحریکوں کا مرکز ہمارے نبی کریم کا قلب مبارک تھا۔ اسی لئے فرمایا أُوتِيْتُ جَوَامِعَ الكَلِم المسلم كتاب المساجد ومواضع الصلاة۔ بأب المساجد و مواضع الصلاة) قرآن شریف میں دنیا و دین دونوں کے متعلق ہدایتیں ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں کہ جب فرشتوں کی تحریک ہوتی ہے تو وہ اس تحریک کو پیچھے ڈال دیتے ہیں اور اللہ کی پاک آیات کو واہیات بناتے ہیں ۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ جب قبض وغیرہ ہو تو انسان میکائیلی تحریکوں کے ماننے کو تیار ہو جاتا ہے مگر جب روحانی قبض ہو تو پھر کہتے ہیں کہ خیر ۔ اللہ غفور رحیم ہے۔ اس کی جڑ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو مقدم کر لیتا ہے۔ البدر جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه (۳) لِجِبْرِيلَ ۔ اس کا ذکر دانیال باب ۸ آیت ۱۲ میں ہے۔ جابرایل ۔ خدا کا مقرب ۔ ے جس میں پائدار کتابوں کی صداقتیں ہیں۔ صداقتیں ہیں۔ ۲ اے ہمارے صاحب! تو ہمیں دنیا میں بھی خیر و برکت دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ سے مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں ۔ ( ناشر )