حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 267
حقائق الفرقان ۲۶۷ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے۔ زوال کے بعد ترقی ہو سکتی ہے اور ایسا ہوتا رہتا ہے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک قوم ہے ( یہود ) جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا تھا ہم نے ان کو یہ سزا دی کہ اور قوموں میں تو تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں مگر ان میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور ان کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہوگا چنانچہ یہودیوں کی کوئی مقتدرانہ سلطنت روئے زمین پر نہیں۔ چپہ بھر زمین پر بھی ان کا تسلط نہیں۔ اگر ان کو تکلیف دی جاوے تو کوئی نہیں جو ان کی حامی بھرے۔ تیرہ سو برس سے خدا کا یہ کلام سچا ثابت ہو رہا ہے۔ پس ہمیں اس سے یہ سبق لینا چاہیے کہ خدا کے خلاف جنگ نہ کریں اور ہرگز ہرگز ور لی زندگی کو مقدم نہ کر لیں ورنہ لَا يُنْصَرُوْنَ کی سزا موجود ہے۔ (البدر جلد ۸ نمبر ۷ ، ۸، ۹ مؤرخہ ۲۴ وا ۳ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۲) ۸۸- وَلَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَ أَيَّدُ نُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ - ترجمہ ۔ اور یہ بات تو یقینی ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی پھر اس کی تائید میں ہم نے لگا تار رسول بھیجے موسیٰ کی وفات کے بعد ( یہاں تک کہ بھیجا اور دیئے ) عیسی بن مریم کو کھلے کھلے نشانات اور اس کی مدد کی کلام پاک سے ( بھلا اے بنی اسرائیل!) جب کبھی تمہارے پاس ایسا رسول آیا جو تمہاری من مانی باتوں کا بیان کرنے والا نہ تھا تو تم نے اس سے تکبر ہی کیا ( انجام یہ کہ ) کسی فریق کو تم نے جھٹلایا اور کسی فریق کے در پے قتل ہور ہے ہو ۔ تفسیر۔ ہم نے تو ان لوگوں کی بہتری کے لئے موسی کو کتاب دی۔ پھر اور رسول بھیجے۔ اخیر میں عیسی بن مریم کو کھلے نشانات کے ساتھ مبعوث کیا اور اسے اپنے کلام پاک سے موید کیا۔ پھر بھی اکثر لوگوں کی عادت ہے کہ جب کوئی رسول آیا اور اس نے ان کی خواہشوں کے خلاف کہا تو یہ اکڑ بیٹھے ۔ پھر بعض کی تکذیب کی اور بعض کے قتل کے منصوبے کرنے لگے۔ مگر اس کا انجام ان کے حق میں اچھا نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو فہم عطا کرے۔ عاقبت اندیشی دے۔ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ سب یا رو آشنا الگ ہونے والے ہیں ہاں کچھ دوست ایسے ہیں جو دنیا و آخرت میں ساتھ ہیں۔ (البدر جلد ۸ نمبر۷، ۸ مورخہ ۲۴ و ۳۱ دسمبر ۱۹۰۸ ء صفحه (۲)