حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 16
حقائق الفرقان ۱۶ سُورَةُ الْفَاتِحَة الرَّحْمنِ ۔ بلا کسی قسم کی کوشش اور استدعا کے انعام کرنے والی ذات ۔ بن مانگے دینے والا ۔ البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۷ ) الرَّحْمنِ فضل کننده بلا مبادلہ۔ بلا محنت دینے والا۔ الرَّحِيمِ ـ کئے پر اپنے رحم سے پھل دینے والا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۱۴ فروری ۱۹۰۹ صفحه (۲) الرَّحِيمِ ۔ وہ ہے جو نیک اعتقاد اور نیک اعمال اور نیک اخلاق پر اور مانگنے سے رحمت کرنے والا ہو۔ اس پر قرآن مجید کا استعمال شاہد ہے۔ مثلاً فرمایا - وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الاحزاب: ۴۴)۔ ( رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد ا نمبر ا ۔ جولائی ۱۹۰۶ صفحہ ۴) ۲ الرَّحِيم - اللہ تعالیٰ جو اسباب یا ذرائع کسی نتیجہ کے حاصل کرنے کے واسطے بنائے ہیں۔ ان کو عمل میں لانے سے وہ نتائج عطا کرنے والا ۔ انسان کی سچی محنتوں اور کوششوں پر ثمرات حسنہ مرتب کرنے والا ۔ البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۷) بِسْمِ اللهِ جَهْراً ( نماز میں ۔ مرتب) اور آہستہ پڑھنا ہر دو طرح جائز ہے۔ ہمارے حضرت مولوی عبد الكريم صاحب (اللهُمَّ اغْفِرْهُ وَارْحَمه) جو شیلی طبیعت رکھتے تھے۔ بِسْمِ اللهِ جهراً پڑھا کرتے تھے ۔ حضرت مرزا صاحب جهراً نہ پڑھتے تھے۔ ایسا ہی میں بھی آہستہ پڑھتا ہوں ۔ صحابہ میں ہر دو قسم کے گروہ ہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی طرح کوئی پڑھے اس پر جھگڑا نہ کرو۔ ایسا ہی آمین کا معاملہ ہے ہر دو طرح جائز ہے، بعض جگہ یہود اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا آمین پڑھنا برا لگتا تھا تو صحابہ خوب اونچی پڑھتے تھے۔ مجھے ہر دو طرح مزہ آتا ہے کوئی اونچا پڑھے یا آہستہ پڑھے۔ یا البدر جلد ۱۱ نمبر ۳۲ مورخه ۲۳ مئی ۱۹۱۲ ء صفحه (۳) ے اور وہ ایمانداروں پر بڑا رحیم ہے۔ ( ناشر )