حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 248 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 248

حقائق الفرقان ۲۴۸ سُورَةُ الْبَقَرَة انکار کیا اور کہا کہ میں رات کو عبادت کیا کرتا ہوں تو پھر حضرت سلمان نے ان کو زبر دستی سلا دیا۔ صحابہ ایسے نہ تھے کہ إِذَا جَاءَهُمُ اَمْرُ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ (النساء: ۸۴) جب کوئی امن و خوف کی بات ہوتی تو اسے پھیلا نہ دیتے تھے۔ تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو بات سنی تو فوراً اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ آخران کا معاملہ حضرت نبی کریم صلعم کے پیش ہوا تو آپ نے اُس صحابی کو فرمایا کہ تمہارے متعلق ہمیں یہ بات پہنچی ہے تو انہوں نے یہ عرض کیا کہ بات تو جیسے حضور کو کسی نے پہنچائی ہے وہ صحیح ہے۔ تب نبی کریم صلعم نے ان کو فرمایا انَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ۔ یہ بھی فرمایا تھا وَلِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا ۔ تیرے پر نفس کے بھی حقوق ہیں تیری بیوی کے بھی حقوق ہیں ۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ( اس کی مراد اس سے یہ تھی کہ میں تو خوب مضبوط ہوں آپ مجھے کچھ تو اجازت دیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو( چاند کی تیرہ، چودہ، پندرہ ) اُس نے پھر کہا یا رسول اللہ ( مطلب یہ تھا کہ میں بہت طاقتور ہوں آپ مجھے اور زیادہ اجازت دیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا دو دن افطار کر کے ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ تو نبی کریم صلعم نے فرمایا اچھا ۔ سب سے بڑھ کر تو صوم داؤ دی تھا۔ تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کر لیا کرو۔ پھر کہا یا رسول الله ( مطلب یہ تھا کہ مجھے قرآن کریم کے روزانہ ختم کرنے کی تو اجازت فرماویں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتہ میں ایک ختم کر لیا کرو۔ تو اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ۔ تو نبی کریم صلعم نے فرمایا اچھا قرآن کریم کا ختم تین دن میں کر لیا کرو اس سے جلدی کی بالکل اجازت نہیں ۔ جب وہ بوڑھے ہو گئے تو پھر ان کو اس سے تکلیف ہوئی اور اب نبی کریم صلعم تو فوت ہو گئے ہوئے تھے ۔ اب لگے رونے اور پچھتانے کہ میں نے نبی کریم کی اجازت کو اس وقت کیوں نہ مانا ! جب ایسے ایسے صحابہ کو رضا مندی کا پتہ نہیں لگ لو نہ مانا! پتہ سکا تو تم کو کیونکر لگ سکتا ہے؟ ہم بیمار ہو جاتے ہیں یا ہمیں کوئی خوشی ہوتی ہے تو تم میں سے بعض ایسے ہیں (جن کا ہم سے کوئی