حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 238
حقائق الفرقان ۲۳۸ سُورَةُ الْبَقَرَة ہوتا اور وہ ذلیل و مردود ہو جاتے ۔ اور اس کو سو ر اور بندر کے استعارے میں مجاز ا ذ کر کیا ہے۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۴۵) اور تحقیق تم جانتے ہو کہ جو لوگ سبت کے دن میں حد سے بڑھ گئے تھے یعنی وہ سبت کے دن کی بے حرمتی کرتے تھے ان کو ہم نے بندر بنا کر ذلیل کر دیا۔ وہ دراصل بندر ہو گئے تھے ۔ پارہ ۶ رکوع ۱۳ میں بھی ان کا ذکر ہے کہ یہ بندر اور سؤر جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لائے۔ نیز دیکھو پارہ نمبر ۹۔ پس ہم نے اس واقعہ کو ان کی آئندہ نسلوں اور متقیوں کے لئے عبرت بنایا۔ وہاں بنی اسرائیل کو سبت کے دن کی عزت و حرمت کی تاکید تھی اور یہاں جمعہ کے دن ( کی ) عزت کی مسلمانوں کو تاکید کی گئی ۔ مسلمانوں کے سامنے یہودیوں کے اس سبت کے دن کی بے حرمتی کرنے سے بندر بنے ، سؤ رہنے ، بت پرست بنے ، ذلیل ہوئے ۔ اس ذلت کو عبرت کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور ڈرایا گیا ہے کہ دیکھو سبت کے دن کی بے حرمتی کر کے یہودیوں نے یہ پھل پایا ایسا نہ ہو کہ کہیں تم جمعہ کے دن کی عزت سے لا پروائی کر کے مور د غضب بنومگر افسوس کہ مسلمانوں نے جمعہ کے دن سے پھر بھی غفلت کی ۔ آخر کو اب وہ زمانہ آ گیا کہ یہ بھی ذلیل ہو گئے ۔ مسلمانوں نے عالمگیر کے آخری زمانہ سے جمعہ کے معاملہ میں سستی شروع کی تھی۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲ ء صفحہ ۶۲، ۶۳) ۶۸ تا ۷۲- وَ إِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا اتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجِهِلِينَ - قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنُ لَنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا فَارِضٌ وَلَا بِكُرُ عَوَانَ بَيْنَ ذلِكَ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ - قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنُ لَنَا مَا لَوْنُهَا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّظِرِينَ - قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنُ لَنَا مَا هِيَ إِنَّ الْبَقَرَ تَشْبَهَ عَلَيْنَا وَ إِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ