حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 234
حقائق الفرقان ۲۳۴ سُورَةُ الْبَقَرَة اس نے کہا ہے نتقنا کے معنی زَعْزَعْنَا کے کئے ہیں ۔ زَعْزَعْنَا کے معنے ہوئے ہلا دیا ہم نے ۔ اور فراء نے کہا ہے نتقنا کے معنی رَفَعْنَا کے ہیں اور رَفَعْنَا کے معنے ہیں او پر رکھا ہم نے ۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ راوی لاہور کے نیچے بہتی ہے اور لاہور راوی کے اُو پر آباد ہے۔ ٹیمس لندن کے نیچے بہتا ہے۔ پہاڑوں میں ایسے نظارے عام ہیں کہ پہاڑ سر پر ہوتا ہے اور اگر زلزلہ پہاڑ میں آ رہا ہو اور پہاڑ آتش فشاں ہو تو اور بھی وہ نظارہ بھیانک ہو جاتا ہے۔ معنی آیت کے اس صورت میں یوں ہوئے جب بلند کیا تم پر اس چیز کو جو طور میں نازل ہوئی ۔ آگے کا فقرہ اس معنی کی طرف راہنمائی بھی کرتا ہے خُذُوا مَا آتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فيه (البقرة: ۶۴) لوجود یا ہم نے تم کو بڑی قوت سے اور عمل درآمد میں لاؤ جو اس میں ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن۔ صفحہ ۲۰۴، ۲۰۵) بنی اسرائیل کو فرماتا ہے کہ ہم نے تم سے کوہ طور کے نیچے پختہ وعدہ لیا اور تم کو اس امر کی ہدایت کی کہ جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں تم اس پر پورے طور سے عملدرآمد کرنا تا کہ متقی بن جاؤ۔ او رفعنا ۔ اونچا رکھا۔ جیسا کہ دَخَلُوا عَلَى يُوسُفَ (يوسف : ۱۰۰) اس کا یہ مطلب نہیں کہ یوسف کے اوپر چڑھ گئے بلکہ یوسف کے پاس گئے ۔ ایسا ہی ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ لاہور دریائے راوی پر ہے۔ علی اور پر کے مضمون پر غور کرنا چاہئے۔ وَاذْكُرُوا ۔ عمل کرو۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنو مبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶۲ ) ۱۵ - ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَسِرِينَ ۔ ترجمہ ۔ پھر تم نے منہ پھیر لیا اس حکم کے بعد پس اگر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ( نے ) تمہاری دست گیری نہ کی ہوتی تو تم ضرور نقصان پانے والے ہوتے۔ تفسیر ۔ تم نے عہد کیا پر پھر تم پھر گئے ۔ پس یا د رکھو کہ اگر تمہاری اس بد عہدی کے بدلہ میں تم کو سزا ملتی اور خدا کا فضل اور رحم تم پر نہ ہوتا تو تم نقصان اٹھانے والوں : نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶۲)