حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 232
حقائق الفرقان ولا تحزن زندگی بسر کرتا ہے۔ ۲۳۲ سُورَةُ الْبَقَرَة الفضل جلد نمبر ۲۱ مورخه ۵ نومبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۱۵) تحقیق وہ لوگ جو مسلمان ہوئے خواہ وہ یہودی تھے یا عیسائی تھے یا صائب تھے ۔ پس جو اللہ تعالیٰ پر آخرت پر ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرنے لگے اُن کے ان نیک کاموں کا خدا بدلہ دے گا اور اُن سے تمام خوف و غم دور کر دے گا۔ صابی ۔ اپنے آپ کو دین اور لیس پر سمجھتے ہیں اور بعض حضرت یحییٰ کو اپنا مطاع مانتے ہیں۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶۲) اس واسطے وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ چونکہ اس وقت ایک مذہبی جنگ شروع تھی اس و تمام قو میں خوف کی حالت میں تھیں کہ خدا جانے ہمارا مذہب اور ہماری عزت باقی رہتی ہے یا نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مومن ہیں ان کا نشان یہ ہے کہ ان کے لئے کوئی ڈر نہیں اور نہ ان میں حزن باقی رہے گا ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه (۱۲) بعض لوگ قرآن مجید کی اس آیت إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرَى وَالصَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: ۶۳) سے غلط فہمی میں پڑے ہیں۔ ان کا اعتقاد ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوں، یہودی ہوں ، صابی ہوں ، جو ایمان لائیں اللہ پر اور روز آخرت پر اور عمل کریں نیک ۔ پس ان کے لئے ربّ کے حضور اجر ہے۔ نہ ان کو خوف ہے نہ حزن ۔ مطلب یہ ہے کہ بس اللہ کو مان لینا اور روز آخرت پر ایمان نجات کے لئے کافی ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ قرآن مجید کے متعد دمقامات میں اس مسئلہ کو واضح کیا گیا ہے کہ یوم آخرت پر ایمان لانا کن لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ تشحیذ الاذہان جلدے نمبر۷۔ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۴) ۶۴ - وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَ اذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - ترجمہ ۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے تم سے شریعت کی پابندی کا اقرار لیا اور تم کوہ طور کے نیچے تھے کہ ہمارے دیئے ہوئے احکام خوب مضبوطی سے پکڑو اور بہ خوبی یاد کر لو ان احکام کو جو اس میں