حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 230
حقائق الفرقان ۲۳۰ سُورَةُ الْبَقَرَة انْفَجَرَتُ بہتے تھے۔ قوم لہسن ۔ پس ہر ایک سردار نے اپنی اپنی قوم کے ساتھ ایک ایک چشمہ پر قبضہ و تصرف کیا ۔ پس کھاؤ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق میں سے اور زمین میں فسادمت کرو۔ اور جب کہا تم نے اے موسیٰ ! ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے ۔ پس تو اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کر کہ اُگائے ہمارے واسطے اُس چیز سے کہ اُگاتی ہے زمین ۔ مثل سبزی ساگ، لکڑیاں لہسن ، مسور اور پیاز کے۔ حکم ہوا۔ کیا بدلتے ہوا دنی چیز کو اعلیٰ کے بدلہ میں ۔ جاؤ کسی شہر میں اس میں تم کو وہ ملے گا جو تم مانگتے ہو اور اُن پر ذلت اور مسکنت ماری گئی ۔ اور وہ اللہ کا غضب کمالائے۔ اور یہ سب کچھ اس واسطے ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ انبیاء کے ساتھ بغیر حق کے لڑتے تھے۔ اور یہ بدلہ تھا اس بات کا کہ وہ حد سے تجاوز کر جاتے تھے۔ اونی کھیتی باڑی میں پڑو گے تو ذلیل ہو جاؤ گے کیونکہ خدا نے تو یہ حالت جس سے تم نکلنے کی کوشش کر رہے ہو اس لئے تجویز کی کہ تا تم آزادی پسند ہو۔ فرعون کی غلامی کرتے کرتے جو کمینہ خصلتیں تم میں پیدا ہو گئی ہیں وہ دور ہو جائیں اور بادشاہت کرنے کے لئے تم میں طاقت ولیاقت پیدا ہو جائے ۔ مسكنت ۔ بے دست و پا ہو جانا۔ بنی اسرائیل نے یہ دعا کی اور قبول ہو گئی ۔ مگر کیسا نقصان اُٹھا یا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض دعاؤں کا قبول ہونا اچھا نہیں بلکہ نہ ہونا ہی اچھا ہوتا ہے۔ يَعْتَدُونَ ۔ مسلمانوں کی تباہی بھی اسی طرح سے ہوئی چھوٹے گناہوں سے بڑے گناہ پیدا ہوتے ہیں یہاں تک کہ آدمی نبیوں کے قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ افسوس ہے کہ اس زمانہ کے مسلمان ان تمام مصائب میں گرفتار ہیں لیکن اب تک کروٹ نہیں بدلتے ۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶۲٬۶۱)