حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 14

حقائق الفرقان ۱۴ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة ا ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ترجمہ میں پڑھنا شروع کرتا ہوں اس کے نام کی مدد سے جس میں خوبیاں ہی خوبیاں ہیں جو بے مانگے دینے والا ، سچی محنتوں کو ضائع نہیں کرنے والا ہے۔ تفسیر ۔ اللہ کی عظمت اور بڑائی سے شروع کرتا ہوں : کرتا ہوں جو بن مانگے دینے والا دینے والا اور سچی محنتوں پر عمدہ نتائج مرتب کرنے والا ہے۔ البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ ۱ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۸۷ ) با بہت سے معانی کے لئے آتی ہے اور یہاں پر استعانت کے لئے ہے ۔ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ اور خصوصًا إِيَّاكَ نَسْتَعِین اس کے مؤیّد ہے ۔ استعانت کسی فعل میں ہوتی ہے۔ اس فعل میں کچھ بحث کی گئی ہے لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع میں اِقْرَأَ بِاسْمِ رَبِّكَ ك ارشاد ہوا بہت تھا۔ لہذا کتاب اللہ کے افتتاح کے وقت فعل قرأت (اقرأ) میں استعانت بہت موزوں ہے۔ ( رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۱ ۔ جولائی ۱۹۰۶ ء صفحہ (۳) ب۔ استعانت کی ہے۔ اللہ کی مدد سے۔ بعض لوگوں نے غلطی کھائی ہے کہ کہا ہے کہ جس شے سے استعانت کی جاتی ہے وہ ہتھیار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہتھیار بنانا بے ادبی میں داخل ہے۔ مگر ایسا خیال درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ اور ایسا ہی سورہ الحمد میں إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ آتا ہے۔ غرض استعانت جائز ہے۔ تمام کتب الہیہ ب سے شروع ہوتی ہیں ۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی ایسا لکھا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ ب کے معنے ہیں ساتھ اور اس کا فعل خود قرآن شریف میں آیا ہے۔ کیونکہ سب سے پہلی آیت جو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی وہ یہ ہے۔ اقر أَباسْمِ رَبِّكَ اسم سمو کے معنے ہیں عظمت بلندی بزرگی ۔ ( ضمیمه اخبار بدر جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۱۴ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۲) ہر ایک سچی اور آسمانی کتاب اگر اپنی اصلی زبان میں ہو تو اس کے ابتدا میں حرف ب ہی