حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 217
حقائق الفرقان ۲۱۷ سُورَةُ الْبَقَرَة ظلمونا ۔ ہمارا نقصان نہیں کیا۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۱) نَرَى اللهَ جَهْرَةً - یہ گستاخی کی ۔ الصُّعِقَةُ - عذاب تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۳۷) سخت محنت کے بغیر جو رزق ملتا ہے اس کو عربی میں من کہتے ہیں اس لئے لکھا کہ الْكَمْأَةُ مِنَ المَن یعنی کھبی بھی من سے ہے اور ترنجبین۔ اور اسی کے معنی میں شیر خشت اور تمام جنگل کی اشیاء ۔ ان سب کو من میں داخل کیا گیا ہے۔ ایک دفعہ پنجاب میں قحط پڑا تھا۔ بہت بڑھے ابھی تک اس کو جاننے کیا والے موجود ہیں اس میں مر گن نام ایک بوٹی بہت پیدا ہوئی تھی اسی پر لوگوں کا گزارہ تھا۔ اسی واسطے اس سال کو مر کن کا سال کہتے ہیں ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو جنگل کے درمیان مصیبت کے ایام میں جنگلی اشیاء سے سہارا بخشا اور بھوک کے عذاب سے ہلاک نہ ہونے دیا۔ بنی اسرائیل چالیس برس اس ملک میں رہے جو ملک فلسطین اور بحیرہ قلزم کے درمیان ہے۔ انسانی ضرورتیں بغیر پانی کے پوری نہیں ہو سکتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دنوں ضروری وقتوں پر مینہ برسائے یہ ان پر خاص فضل تھا اور کرم کی نگاہ تھی۔ والا خشک سالیوں میں ہلاک ہو جاتے ۔ جب موسی کے قصہ میں مشکلات پیش آویں تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات سے وہ مشکل بخوبی حل ہو سکتی ہے۔ موسیٰ کا قصہ بسط کے ساتھ قرآن کریم میں صرف اسی واسطے ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا مثیل قرار دیا گیا ہے چنانچہ آپ کے لئے ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے بادل کا سایہ کر دیا جیسے کہ غزوہ بدر اور احزاب میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح بارش کی سخت ضرورت پیش آئی تو اُس وقت خدا تعالیٰ نے بارش کے ذریعہ مومنوں کو ہلاکت سے محفوظ رکھا۔ استسقاء کی نماز ایسے ہی وقتوں کے لئے مسنون ہوئی ۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۱۸،۲۱۷) انتشاری بجلی سے ہلاکت اور نقصان اگر تم نے نہیں سنا تو کسی سائنسدان سے دریافت کرو اور کچھ ہم بھی بتا دیتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جس وقت جناب موسیٰ علیہ السلام چند منتخب لوگوں کو طور کے قریب