حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 195
حقائق الفرقان ۱۹۵ سُورَةُ الْبَقَرَة لگی ۔ جو فوائد اور آرام اس سے مل رہے ہیں وہ ظاہر ہیں مگر یہ سب کچھ کثرت فی الوحدت کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ اختلاف کو رہنے دو مگر اس اختلاف کو وحدت کے مرکز کے نیچے لاؤ کہ یہ مفید اور کارآمد شئے بن جاوے۔ ہمارے لوگ اختلاف کو تو ترقی دیتے ہیں مگر مرکز وحدت سے الگ ہو کر اس صورت میں یہ مفید نہیں بلکہ مضر ہوگا۔ (الحکم جلد ۱۶ نمبر ۳ مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۱۲ء صفحه ۴ تا ۷ ) یہ فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ (البقرة: ٣٩) مومن کیا اور ڈر کیا ۔ ضرار بن از در کی بہن کو دیکھو کہ جہاں ہزار دو ہزار ( دشمنان اسلام ) کی صف دیکھتی تھیں فوراً اس میں گھس پڑتی تھیں اور چیر کر چھوڑتی تھیں۔ ( البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۱۲ ء صفحہ ۶۷) ۱- يُبَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَ أَوْفُوا بِعَهْدِى رُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ - ترجمہ ۔ اے اللہ کے پہلو ان کی اولاد ! تم میرے ان انعاموں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کئے ہیں اور تم میری شریعت کے اقرار کو پورا کرو میں تمہارا اقرار پورا کروں گا (یعنی جزا دوں گا ) اور میری ہیت وجلال کے وقت سے ڈرو۔ تفسیر سارا قرآن شریف حقیقت میں الحمد کی تفسیر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں تین گروہوں کا اور اپنی صفات میں سے چار صفات کا ذکر کیا ہے۔ ایک گروہ کا نام منعم علیہم ہے۔ بہت سے لوگ منعم علیہ ہو کر بھی مغضوب بن جاتے ہیں۔ مغضوب علیہ وہ ہوتا ہے جو علم پر عمل نہ کرے اور کسی سے بے جا عداوت رکھے۔ احادیث میں یہود بتائے گئے ہیں ان میں یہی بات ہے کہ بے جا عداوت رکھتے ہیں اور جو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہو کر علم نہیں رکھتے اور کسی سے بے جا محبت رکھتے ہیں وہ ضالین ہیں ۔ احادیث میں ان کا نام عیسائی آیا ہے۔ یہاں یعقوب کا نام چھوڑ دیا ہے۔ اسرائیل کو یونانی زبان میں اس کی بجائے ش بولتے ہیں ۔ اثر کے معنے سپاہی ، بہادر ۔ خدا تعالیٰ نے یعقوب علیہ السّلام کا لے جو شخص اُن میرے ہدایت ناموں کی پیروی کرے گا اُسے کسی قسم کا نہ آئندہ خوف ہوگا اور نہ گزشتہ ہی عمل کے لئے وہ غمگین ہوگا ۔ (ناشر)