حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 137
حقائق الفرقان ۱۳۷ سُورَةُ الْبَقَرَة خدا کے برگزیدے کامیاب ہو جاتے ہیں پھر مغضوب اور الضال کا ذکر کیا ہے بالآخر ابوالملت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسّلام کا ذکر فرمایا اور اس کی فرمانبرداری کو بطور نمونہ پیش کیا کہ اس کی راہ اختیار کر کے انسان برگزیدہ ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات کو حاصل کر لیتا ہے۔ پھر نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ کی تاکید اور اِسی سورۃ شریف میں عبادت کے طریق سکھائے ہیں پھر آخر میں یہ دعا سکھائی ہے۔ وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرة: (۲۵) یہ نہایت مختصر سا خلاصہ ہے سورۃ فاتحہ کا جو اس سورہ بقرہ میں موجود ہے۔ اس کی تفصیل اور تفسیر کے لئے تو بہت وقت چاہیئے مگر میں نہایت مختصر طریق پر صرف پہلے ہی رکوع پر کچھ سناؤں گا چنانچہ ابتداء میں مولی کریم فرماتا ہے الم - ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں اللہ بہت جاننے والا ہوں اس کی جانب سے یہ ہدایت نامہ ملتا ہے جس پر چل کر انسان روحانی آرام اور سچے عقاید اور جسمانی راحتیں حاصل کر سکتا ہے۔ میں نے پہلے کہا ہے کہ قرآن شریف کا نام اللہ تعالیٰ نے شفا رکھا ہے اور اس کے ماننے والوں کا نام متقی رکھا ہے اور پھر فرمایا ہے۔ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (المتفقون: 9) یعنی جو لوگ ماننے والے ہوتے ہیں وہ معزز ہوتے ہیں۔ ماننے والے سے مراد یہ ہے جو اس پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے تاریخ اور واقعات صحیحہ اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ جس قوم نے قرآن کو اپنا دستور العمل بنایا وہ دنیا میں معز ز و مقتدر بنائی گئی ۔ کون ہے جو اس بات سے ناواقف ہے کہ عربوں کی قوم تاریخ دنیا میں اپنا کوئی مقام و مرتبہ رکھتی تھی وہ بالکل دنیا سے الگ تھلگ قوم تھی لیکن جب وہ قرآن کی حکومت کے نیچے آئی وہ گل دنیا کی فاتح کہلائی ۔ علوم کے دروازے ان پر کھولے گئے ۔ پھر ایسی زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے اس صداقت سے انکار کرنا سراسر غلطی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ آجکل مسلمانوں کے تنزل واد بار کے اسباب پر بڑی بحثیں ہوتی ہیں اور وہ لوگ جو قوم کے ریفارمر یا لیڈر کہلاتے ہیں اس مضمون پر بڑی طبع آزمائیاں کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں، آرٹیکل لکھتے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ وہ اے اور مدد فرما ہماری کا فرقوم کے مقابلے میں ۔ ۲۔ حالانکہ اللہ ہی کی عزت ہے اور اس کے رسول کی اور ایمانداروں کی ۔ (ناشر) ۔