حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 131

حقائق الفرقان ۱۳۱ سُورَةُ الْبَقَرَة اور عمل کی قوت دینے والا نہ ہو۔ تلاوت تب مفید ہو سکتی ہے کہ علم ہو اور علم تب مفید ہو سکتا ہے جب عمل ہو اور عمل تزکیہ سے پیدا ہوتا ہے اور علم معلم سے ملتا ہے۔ بہر حال مومنوں کا ذکر ہے کہ ان کو ایمان بالغیب کی ضرورت ہے جس میں ، حشر و نشر ، صراط جنت و نارسب داخل ہیں۔ یہ اس کا عقیدہ اول درست ہو جائے تو پھر نماز سے امر الہی کی تعظیم پیدا ہوتی ہے اور خدا کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرنے سے شفقت علی خلق اللہ ۔ پھر برہموؤں کی طرح نہ ہو جاوے جو الہام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ خدا تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام اتارا اور آپ سے پہلے بھی اور آپ کے بعد بھی مکالمات الہیہ کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ یہ تو منعم علیہ گروہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ مغضوب ہیں جو خدا تعالیٰ کے ماموروں کے وجود اور عدم وجود کو برابر سمجھ لیتے ہیں اور ان کے اندار اور عدم انذار کو مساوی جان لیتے ہیں اور پروانہیں کرتے اور اپنے ہی علم و دانش پر خوش ہو جاتے ہیں وہ خدا کے غضب کے نیچے آجاتے ہیں ۔ یہی حال یہود کا ہو ا۔ پھر تیسرا گر وہ گمراہوں کا ہے جن کا ذکر ان آیات میں ہے جو میں نے پڑھی ہیں۔ ان کے کاموں میں دجل اور فریب ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو کلام الہی کا خادم کہتے ہیں مگر مَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ بڑی بڑی تجارتیں کرتے ہیں مگر ہدایت کے بدلے تباہی خریدتے ہیں اور کوئی عمدہ فائدہ ان کی تجارت سے نہ ہوا۔ ا میرے دل میں بارہا یہ خیال آیا ہے کہ ایک تنکے پر بھی شئے کا اطلاق ہوتا ہے اور وہی شئے کا لفظ وسیع ہو کر خدا پر بھی بولا جاتا ہے۔ یا درکھو نفاق دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ کہ دل میں کوئی صداقت نہیں ہوتی ۔ وہ اعتقادی منافق ہوتا ہے۔ اس کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ عیسائیوں کا مذہب ہے۔ انجیل کی حالت کو دیکھو کہ اس کی اشاعت پر کس قدر سعی بلیغ کی جاتی ہے مگر یہ پوچھو کہ اس کتاب کے جملہ جملہ پر اعتقاد ہے؟ تو حقیقت معلوم ہو لے حالانکہ وہ ماننے والوں میں نہیں۔ (ناشر)