حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 126
حقائق الفرقان ۱۲۶ سُورَةُ الْبَقَرَة اللہ تعالیٰ نے اس ( سورۃ فاتحہ ۔ ناقل ) میں تین فرقوں کا ذکر کیا ہے ۔ ایک اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۲۔ ایک مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ ۳۔ ایک الضَّالِّينَ ۔ میرا اعتقاد ہے کہ تمام قرآن سورہ الحمد کی تفسیر ہے اور اس میں ایک خاص ترتیب سے انہی تین گروہوں کا ذکر ہے چنانچہ سورہ بقر ہی کولو کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ کا ذکر ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِم كا اور أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَلَةَ بِالْهُدَی میں ضالین کا ۔ یہ ابتداء کا حال ہے اب جہاں قرآن ختم ہوتا ہے وہاں سورۃ نصر إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ میں مُنْعَمْ عَلیہم کا بیان ہ اور تبت یدا ابي لَهَبٍ میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا اور هُوَ الهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدُ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ میں ضالون کی تردید ہے اس واسطے ہم واسطے ہم کو چاہیے کہ بہت فکر کریں اور اپنا آپ محاسبہ کریں اپنے اعمال کو دیکھیں کہ ہم کس فریق کے کام کر رہے ہیں آیا مُنْعَمُ عَلَيْهِم كے يا مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے یا ضالین کے منعم علیہم تم ان تین گروہوں کے اوصاف پر غور کرو مُنْعَمْ عَلَیہم گروہ کے لئے سب سے پہلی صفت بیان کرتا ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ایمان بالغیب ایسا ضروری ہے کہ دنیا کا کوئی کام اس کے بغیر نہیں ہوتا۔ پہاڑے ، مساحت ، اقلیدس، طبعیات سب کے لئے فرضی بنیاد پر کام ہوتا ہے یہاں تک کہ پولیس بھی ایک بد معاش کے کہنے پر بعض مکانوں کی تلاش شروع کر دیتی ہے تو کیا وجہ کہ انبیاء کے کہنے پر کوئی کام نہ کیا جائے جس کا تجربہ بارہا کئی جماعتیں کر چکی ہیں ۔ پھر فرمایا يُقِيمُونَ الصَّلوةَ دعاؤں میں نمازوں میں قائم رہتے ہیں ، وہ مالوں کو خرچ کرتے ہیں بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ اور مِنْ قَبْلِكَ اور آخرت پر ان کا ایمان ہوتا ہے۔ ا جس وقت اللہ تعالیٰ کی مدد ظاہر ہو جائے فتح مکہ ہو ۔ ۲ے ہلاک ہو گیا غصیلا مغرور اور تباہ ہو گیا۔ سے وہ اللہ ایک ہی ہے ( تو اسی ایک کا ہو جا۔ اللہ بے نیاز ہے ( صرف اسی کا نیازمند بن ) ۔ نہ اس نے جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ ( ناشر )