حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 124

حقائق الفرقان المولد سُورَةُ الْبَقَرَة جب ایمان داروں سے ملے کہہ دیا ہم ایمان لا چکے ہیں اور جب اپنے شریر سرداروں کے پاس گئے ، کہا بے ریب ہم تمہارے ہی ساتھ ہیں ۔ بے ریب ہم تو ریب ہم تو صرف ہنسی میں اڑانے والے ہیں مسلمانوں کو۔ اللہ بھی ہنسی میں اڑا دے گا انہیں ۔ ابھی ان کو ڈھیل دے رہا ہے وہ اپنے بھرے اور گمراہی میں دل کے اندھے ہو رہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ناکامی مول لی کامیابی بیچ کر، تو ان کی سوداگری بے سود ہوئی اور انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں دیا اور وہ راہ یاب اور کامیاب نہ ہوئے۔ تفسیر ۔ آیا ہے اس کے معنے ایمان لانے کے ہیں نہ یہ کہ وہ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما مصدر یہ ہے ؟ یہ ہے جو کہ اپنے مابعد کے فعل کو بمعنے کو بمعنے مصدر بنا دیتی ہے لہٰذا امن جو اس کے بعد ال جنس کے لئے ہے یعنی جنس انسان اور کبھی اس سے معتبر افراد مراد ہوتے ہیں تو اس لحاظ سے یہاں پر کامل انسان مراد ہوں گے۔۔۔۔۔۔ سفیہ کہتے ہیں ضعیف العقل، کذاب ، جلد باز ، بڑے ظالم ، مخالف حق ، ضعیف الرائے ، انجان کو ۔ اسی وجہ سے بچوں اور عورتوں کو سفھاء کہا گیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے لَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ ( النساء : ٦ ) ( نہ دو ضعیف العقلوں کو اپنے مال ) یعنی بچوں اور عورتوں کو ۔۔۔۔۔ امَنَ النَّاسُ : کمال ایمان لانا ، نامناسب کے ترک کرنے اور مناسب کے کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان من میں جو استفہام کا ہمزہ ہے یعنی دریافت کرنے کا۔ یہ یہاں پر انکار کے لئے ہے۔ پس کیا ہم ایمان لائیں“ کا مطلب یہ ٹھہرا کہ ہم سے ایسی بیوقوفانہ حرکت کبھی نہیں ہو سکتی یعنی ہم ایسا ایمان نہ لائیں گے۔ اور ان دونوں کے لانے سے مطلب یہ بنا کہ گویا منافقوں کو کہا گیا کہ ایسا کامل ایمان لے آؤ جیسا کہ وہ کامل لوگ لائے ہیں ۔ ان کے فساد کے بیان کے وقت تو ان کی نسبت لَا يَشْعُرُونَ فرمایا ہے اور ایمان کے بیان میں لا يَعْلَمُونَ فرمایا ہے اس لئے کہ فساد ایک ظاہری اور محسوس امر ہے لہذا اس میں لَا يَشْعُرُونَ فرمایا جو کہ حواس ظاہرہ کے علم کو کہتے ہیں اور ایمان کے