حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 3
حقائق الفرقان دوازدہم ۔ احادیث صحیحہ ثابتہ کے خلاف نہ ہو۔ سیز دہم ۔ کتب سابقہ کے ذریعہ بھی بعض معانی قرآن حل کئے جاتے ہیں۔ چہار دہم ۔ کسی وحی الہی اور الہام صحیح کے ذریعہ سے بھی معانی قرآن حل ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک اصل کی۔ اصل کی مثالیں دوں تو ایک مجلد تحکیم بن جاوے اور بعض اصول عام لوگوں کے استعمال میں آنے والے نہیں معلوم ہوتے ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن۔ صفحہ ۱۰ تا ۱۲) قرآن شریف کے علوم کے حصول کے ذرائع اللہ تعالیٰ نے خود قرآن شریف میں بیان کر دیتے ہیں ۔ الرَّحْمَنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ (الرَّحْمَن : (۳۲) قرآن شریف کا سکھانا اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا تقاضا ہے ۔ اس واسطے ضرورت کن چیزوں کی ہے وہ بھی خود خدا تعالیٰ نے بیان فرمادی ہیں ۔ وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة : ۲۸۳) مشقی کو خدا تعالیٰ معارف اور علوم قرآنی سے خبردار کر دیتا ہے اور تقوی ایک ذریعہ ہے قرآن دانی کے لئے ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے وَ الَّذِینَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ الَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) تقوی کے ساتھ جہاد اور کوشش کی بھی شرط ہے۔ پس علوم قرآنی کا معلم خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس فیض اور فضل رحمانی کا جاذب تقویٰ اور جہاد فی اللہ ہے۔ فرمایا کہ ہمارے نزدیک ہم نے ایک راہ کا تجربہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان دل میں سچی تڑپ اور پیاس علوم قرآنی کے حصول کے واسطے پیدا کر کے تقوی تام سے دعائیں کرے اور اس طرح سے قرآن شریف شروع کرے۔ دور اول ۔ خود تنہا ایک مترجم قرآن شریف لے کر جس کا ترجمہ لفظی ہو انسان کی اس میں اپنی ملاوٹ کچھ نہ ہو اور اس کے واسطے میں شاہ رفیع الدین صاحب عليه الرحمة اے رحمن نے قرآن سکھایا ہے۔ ۲ے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اللہ تم کو سکھاتا ہے۔ سے اور جن لوگوں نے محنتیں اور کوششیں کیں ہمارے میں ہو کر تو ہم ضرور ضرور دکھا ئیں گے ان کو اپنے رستے ۔ (ناشر)