حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 113
حقائق الفرقان ۱۱۳ سُورَةُ الْبَقَرَة مَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة: 9) ایسے لوگ اللہ پر ایمان لانے اور آخرت پر ایمان لانے کے زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے دل مومن نہیں ہوتے ۔ اسی لئے باوجود اس کے کہ وہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مومنوں میں سے نہیں سمجھتا۔ وہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہم کو اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ کہ الحکم جلد ا ا نمبر ۴۶ مورخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱) وہ اللہ کے نزدیک مومن نہیں ۔ رو ١٠- يُخْدِعُونَ اللهَ وَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ مَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَ مَا ووور يشعرون - ترجمہ ۔ وہ اللہ کو چھوڑتے ہیں اور ایمان والوں کو فریب دیتے ہیں ) اور وہ کسی کو بے نصیب نہیں کرتے مگر اپنے آپ کو اور وہ کچھ شعور بھی نہیں رکھتے۔ تفسیر۔ وہ اللہ کو چھوڑتے ہیں اور ان کو جو ایمان لائے حالانکہ وہ تو اپنے نفسوں ہی کو ( دراصل ) محروم کرتے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کا کچھ شعور نہیں رکھتے ۔ يُخْدِعُونَ کا ترجمہ ”دھوکہ دیتے ہیں“ کریں تو اس میں بہت سی مشکلات ہیں اس لئے میرے نزدیک اس کے معنے ترک کرتے ہیں صحیح ہیں ۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑا تو اس کا خمیازہ یہ اٹھایا کہ اپنے آپ کو محروم کر لیا۔ عبداللہ بن ابی بن سلول ایک شخص تھا وہ بھی انہی مِنَ النَّاسِ “ میں سے تھا۔ نبی کریم ایک مجلس میں وعظ کہنے لگے۔ اس روز بہت جھگڑہ تھا سواری میں غبار جو اُٹھا تو اس نے رومال اپنے منہ پر رکھ لیا اور کہا کہ باتیں تو اچھی ہیں اگر گھر ہی سناتے تو اچھا تھا یہاں ہم کو تکلیف ہو رہی ہے۔ اس پر صحابہ میں بہت گفتگو ہوئی۔ ایک صحابی نے عرض کیا اس سے درگزر کر دیں۔ پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ اسے اپنا بادشاہ بنا لیں يُتَوجُوهُ وَ يُعَصِبُوهُ یعنی تاج شاہی اس کے سر پر رکھ دیں اور نمبرداری کی پگڑی اسے بندھا دیں مگر اب گھل گیا کہ یہ شخص اس قابل نہیں ۔ اس نے اپنے تئیں ذلیل کر لیا۔ دیکھو وہ پھر کیسا تباہ ہو ا مومنوں کے سامنے ہلاک ہوا اور اس نے کوئی شرف نہ پایا۔