حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 101 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 101

حقائق الفرقان ۱۰۱ سُورَةُ الْبَقَرَة سے سوالوں سے ظاہر ہوئی ہے اور نہ یہ کوشش کی کہ پہلے ان سوالات کے جوابات کسی متکلم ۔ علم سے سنتے ۔ اب میں آپ کے آگے آپ کی آنکھ کے آگے یہ رسالہ رکھتا ہوں دیکھئے ! آپ روحانی آنکھ سے کام لیتے ہیں یا نہیں؟ اگر توجہ کی اور کفر چھوڑا تو دیکھ لینا مہر ٹوٹ جائے گی۔ بات یہ ہے کہ ایک عام قانون جناب الہی نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے جس سے یہ تمام سوال حل ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ (الصف : ٦ ) جب وہ کج ہوئے خدا نے ان کے دلوں کو کج کر دیا۔ یہ بات انسانی فطرت کے دیکھنے سے عیاں ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کچھ قوتیں عطا فرما کر ان قوتوں کے دینے کے بعد ان قوتوں کے افعال کے متعلق انسان کو جواب دہ کیا ہے اور انہیں طاقتوں کے متعلق نافرمانی کے باعث انسان عذاب پاتا ہے مثلاً ایک ہوا دار روشن کمرہ کی کھڑکیاں عمدہ طور پر بند کی جاویں تو اس بند کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ کمرہ کے اندر اندھیرا ہو اور کمرہ کی ہوا رک جاوے۔ یہ مثل ٹھیک ان اعمال پر صادق آتی ہے جن کا انسان جواب دہ ہے۔ اسی طرح آتشک اور خاص سوزاک اُن لوگوں کو ہوگا جو بدی کے مرتکب ہوئے۔ پس جب کھڑکیاں کھول دی گئیں اور پورا اور صحیح علاج کر لیا گیا تو کمرہ پھر ہوا دار ، روشن اور مریض اچھا ہو جائے گا۔ مہریں اسلام کے رُو سے ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔ اسی واسطے قرآن کریم میں آیا بِي هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدى ( البقرة : ۱۸۶) مُہریں ہی ٹوٹیں تو نبی کریم سے لے کر کروڑ در کروڑ آج تک مسلمان ہوئے ۔ ہاں ! تمہارے مذہب کے رُو سے مہر کا ٹوٹنا ضرور محال ہے کیونکہ اگر مہروں کا ٹوٹنا محال نہیں تو آپ کم سے کم اپنی گاؤ ماتا کو اس کے بھرشٹ جنم سے چھڑاتے ۔ ہمیں اسے پنڈتانی بنا کر دکھاؤ تو سہی! اس بیچاری کا جنم صرف سزا ہی بھوگ رہا ہے کاش اس کی مہر ٹوٹتی تو نہ انگریز اسے مارتے اور نہ ہم پر اتنے مقدمات قائم ہوتے ۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۸ تا ۱ ۱۴) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ - (البقرة: ۸،۷)