انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 414
۴۱۴ سورة ال عمر<mark>ان</mark> تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رہنے کے لئے اور غفلت کے نتیجہ خدا تعالیٰ کے قہر کے وارث۔ہونے سے بچنے کے لئے تقومی تعویذ کا کام دیتا ہے اور حفاظت کرتا ہے اور ہر قسم کے فن اور فسادات سے اور ہر قسم کی بداعمالیوں سے محفوظ رہنے کے لئے تقویٰ ایک مضبوط قلعہ کا کام دیتا ہے۔جو تقویٰ کی چاردیواری کے <mark>ان</mark>در داخل ہو گیا وہ اس قسم کے فتنوں اور فسادوں اور بدعملیوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں سے محفوظ ہو گیا اور تقویٰ کی بار یک در باریک راہیں ہیں۔<mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے لحاظ سے تقویٰ میں فرق ہے۔بعض <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>وں کی استعدادیں موٹی موٹی ہیں بعض کی استعدادیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ باریکیوں میں جاتے ہیں اور زیادہ روح<mark>ان</mark>ی ترقیات کر سکتے ہیں۔جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے کی قوت بھی دی اور تقویٰ کی باریک راہوں کی شناخت بھی عطا کی۔تقویٰ کی یہ باریک را ہیں <mark>ان</mark> کی روح<mark>ان</mark>ی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خد و خال ظاہر کرنے والی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا تقویٰ کی اصل یہ ہے کہ وہ فتنہ وفساد اور ظلم اور نواہی میں مبتلا ہونے کے خطرہ سے حفاظت کا کام دیتا ہے اور جب <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> ہر پہلو سے متقی بن جائے یعنی کسی پہلو سے بھی کوئی گناہ اور گندگی اُس کے قریب نہ آئے تو چونکہ گندگی اور بد صورتی سے اُس نے خود کو محفوظ کر لیا اس لئے روح<mark>ان</mark>ی طور پر اُس کے جو نقوش اور خد و خال تھے وہ نمایاں ہو کر سامنے آگئے اور اُبھر آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے متقیوں سے میں پیار کرتا ہوں اور قرآن کریم پر غور کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اللہ کے پیار کرنے کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنے <mark>ان</mark>عامات اور اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نوازتا ہے۔قرآن کریم نے ہمیں خود بتا یا کہ متقی پر اللہ تعالیٰ کے کس قسم کے فضل نازل ہوتے ہیں کون سے <mark>ان</mark>عام ہیں جو اسے دیئے جاتے ہیں کن رحمتوں سے <mark>ان</mark>ہیں نوازا <mark>جاتا</mark> ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَ<mark>ان</mark>ًا وَيُكَفِرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ (ال<mark>ان</mark>فال :۳۰) فرمایا کہ جو شیط<mark>ان</mark>ی حملوں سے بیچنے کے لئے مجھے پناہ بنا لیتے ہیں اور ڈھال بنا لیتے ہیں میں اُن لوگوں سے اس رنگ میں محبت کرتا ہوں یعنی اس طور پر میرے <mark>ان</mark>عام اور رحمتیں اُن پر نازل ہوتی ہیں کہ اُن میں اور اُن کے غیر میں ایک <mark>امتیاز</mark> پیدا کیا <mark>جاتا</mark> ہے۔<mark>مومن</mark> اور غیر <mark>مومن</mark> میں روح<mark>ان</mark>ی حسن کے لحاظ سے تو بہر حال فرق ہے لیکن ظاہر میں بھی وہ پہچ<mark>ان</mark>ے جاتے ہیں اور دنیاوی لحاظ سے صاحب فراست <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پہچ<mark>ان</mark> لیتا ہے کہ یہ شخص کس قسم کا ہے۔اُن کے اخلاق میں ، اُن کے بات کرنے کے طریق میں ، اُن