مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 642
642 و ہی عبد <mark>اللہ</mark> آتم جس کے لیے ایک دن بھی عیسائیت کی تبلیغ اور اسلام کی تردید کے بغیر گزارنا غیر ممکن تھا متواتر پندرہ مہینے ایک غیر منقطع سکوت اور لامتناہی خاموشی کے ساتھ شہر بہ شہر پھرتارہا اور ایک حرف بھی اپنی زبان سے اسلام یا بانی اسلام کے خلاف <mark>نہی</mark>ں نکالا۔یہ معنی خیز خاموشی ، حیرت انگیز سکوت اور عبرت ناک سراسیمگی اسلام اور خدا کے مسیح موعود کی صداقت پر زبر دست دلیل تھی اور اس طرح سے عبد<mark>اللہ</mark> اعظم کا پندرہ ماہ کا عرصہ گزارنا سعید الفطرت انسانوں کے لیے یقیناً یقیناً خدا کے زبر دست مگر رحمدل ہاتھ کی کرشمہ نمائی کا زبر دست ثبوت تھا۔مگر نور کے دشمنوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لیے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ عبد <mark>اللہ</mark> آتھم نے در حقیقت رجوع <mark>نہی</mark>ں کیا تھا اور یہ کہ خدا کے مسیح موعود کی پیشگوئی نعوذ ب<mark>اللہ</mark> جھوٹی نکلی۔خدا کا مسیح موعود ایک دفعہ پھر خدا کی طرف سے حجت باہرہ اور دلائل بینہ کی تلوار ہاتھ میں لے کر میدان میں نکلا اور عبد<mark>اللہ</mark> انتم ہی کے ذریعہ ایک دوسرے نشان سے صاف اور واضح طور پر اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ سچا اور حقیقی دین خدا کے نزدیک اسلام ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پے در پے اشتہارات شائع کئے کہ اگر تم لوگ اس <mark>دعوی</mark> میں بچے ہو کہ عبد<mark>اللہ</mark> انتم نے رجوع <mark>نہی</mark>ں کیا تو تم اسے کہو کہ وہ حلف اٹھا کر کہہ دے کہ میں نے حق کی طرف رجوع <mark>نہی</mark>ں کیا اگر اس حلف کے بعد وہ ایک سال تک زندہ رہ جائے تو میں جھوٹا ہوں۔آپ نے اسی پر اکتفاء <mark>نہی</mark>ں کیا بلکہ چار ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار شائع کیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ عبد<mark>اللہ</mark> انھم ہر گز فتم <mark>نہی</mark>ں کھائے گا۔کیونکہ اس سے زیادہ اس بات کو کوئی <mark>نہی</mark>ں جانتا کہ اس نے فی الحقیقت حق کی طرف رجوع کیا لیکن اگر اب آتھم عیسائیوں کے اس قول کی تردید نہ کرے اور نہ قسم کھائے تو بھی وہ عذاب سے بچ <mark>نہی</mark>ں سکے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔اس ہماری تحریر سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا وہ سب ہو چکا اور آگے کچھ <mark>نہی</mark>ں۔“ انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۷،۱۶) اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط <mark>نہی</mark>ں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا <mark>نہی</mark>ں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔اور وہ دن نزدیک ہیں دور <mark>نہی</mark>ں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۱۰۶۔اشتہار مورخہ ۲۷/اکتوبر ۱۸۹۴ء)