مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 555
555 گویا آپ کو اللہ تعالیٰ نے جن وانس کی طرف رسول کر کے بھیجا۔هَذَا حَدِيثُ صَحِيحُ الْأَسْنَادِ۔(مستدرک للحاكم كتاب التفسير زير تفسير سورة ابراھیم ) کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند مضبوط ہے۔مندرجہ بالا عبارت سے چار باتیں ثابت ہوئیں:۔ا۔مَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ والی آیت گزشتہ ا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>اء کے متعلق ہے۔۲۔آنحضرت صلعم اس آیت میں شامل نہیں صرف حضور سے پہلے رسول شامل ہیں۔۳۔قوم سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی ہدایت کے لئے وہ <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> آئے۔۴۔آنحضرت کی قوم تمام دنیا ہے کیونکہ آپ تمام دنیا کی طرف بھیجے گئے۔پس اس آیت میں حضرت مسیح موعود بھی شامل نہیں کیونکہ آپ بھی <mark>کس</mark>ی خاص قوم کی طرف نہیں بلکہ ساری دنیا کی طرف آئے تھے۔دو <mark>غیر</mark> احمدی۔حضرت مرزا صاحب نے چشمہ معرفت صفحہ ۲۰۹ میں لکھا ہے۔” یہ بالکل <mark>غیر</mark> معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصلی زبان تو اور ہو اور الہام اس کو <mark>کس</mark>ی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا طاق ہے۔“ جواب:۔خدا کے لئے دھوکہ نہ دو، وہاں چشمہ معرفت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ملہم جس زبان کو نہ سمجھتا ہو اس میں اس کو الہام نہیں ہوسکتا۔وہاں تو ذکر یہ ہے کہ آریہ کہتے ہیں کہ الہامی کتاب اس زبان میں نازل ہونی چاہیے جو <mark>کس</mark>ی انسان کی زبان نہ ہوتا کہ الیشور جی مہاراج نا انصاف نہ ٹھہریں۔یہی وجہ ہے کہ وید سنسکرت میں نازل ہوئے جو کہیں بولی نہیں جاتی۔حضرت مسیح موعود نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ یہ بالکل <mark>غیر</mark> معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان (نہ کہ مہم کی ) زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو<mark>کس</mark>ی اور زبان میں ہو جس کو کوئی (انسان) سمجھتا ہی نہ ہو کیونکہ یہ تکلیف’مالا طاق“ ہے کیونکہ اس کو ملہم <mark>کس</mark>ی دوسرے سے بھی سمجھ نہیں سکتا، لیکن اگر <mark>کس</mark>ی ایسی زبان میں الہام ہو جو انسانی زبان ہو وہ تکلیف مالا يطاق نہیں کیونکہ اگر ملہم خود اس زبان کو نہیں جانتا تو دوسروں سے معلوم کر سکتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے صفحہ ۲۱۹ پر تحریر فرمایا ہے کہ مجھے مختلف زبانوں میں الہام ہوتے ہیں۔نوٹ:۔اس سوال کے جواب کے لئے چشمہ معرفت صفحہ ۲۰۸ تا صفحہ ۲۱۰ کا مطالعہ کرنا