مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 12
12 اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ خدا سنتا ہے۔کیوں نہ کہا جائے کہ اتفاقاً بعض دعا کرنے والے کے کام ہو جاتے ہیں۔جیسے بعض کے <mark>نہی</mark>ں بھی ہوتے اگر سب دعا ئیں قبول ہو جاتیں تب تو کچھ بات بھی تھی لیکن بعض کے قبول ہونے سے کیونکر معلوم ہو کہ اتفاق نہ تھا بلکہ کسی ہستی نے ا<mark>نہی</mark>ں قبول کر لیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت اپنے ساتھ ایک نشان رکھتی ہے۔چنانچہ ہمارے آقا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود مهدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے ثبوتِ باری کی دلیل میں یہ پیش کیا تھا کہ چند بیمار جو خطرناک طور سے بیمار ہوں چنے جائیں اور قرعہ سے بانٹ لئے جائیں اور ایک گروہ کا ڈاکٹر علاج کریں اور ایک طرف میں اپنے حصہ والوں کے لئے دعا کروں۔پھر دیکھو کہ کس کے بیمار اچھے ہوتے ہیں۔اب اس طریق امتحان میں کیا شک ہو سکتا ہے چنانچہ ایک سگ گزیدہ جسے دیوانگی ہو گئی تھی اور جس کے علاج سے کسولی کے ڈاکٹروں نے قطعاً انکار کر دیا تھا اور لکھ دیا تھا کہ اس کا کوئی علاج <mark>نہی</mark>ں۔اس کے لئے آپ نے دعا کی اور وہ اچھا ہو گیا حالانکہ دیوانہ کتنے کے کٹے ہوئے دیوانے ہو کر کبھی اچھے <mark>نہی</mark>ں ہوتے۔پس دعاؤں کی قبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو ا<mark>نہی</mark>ں قبول کرتی ہے اور دعاؤں کی قبولیت کسی خاص زمانہ سے تعلق <mark>نہی</mark>ں رکھتی بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔جیسے پہلے زمانہ میں دعائیں قبول ہوتی تھیں ویسی ہی اب بھی ہوتی ہیں۔نوس دلیل نویں دلیل قرآن شریف سے وجود باری کی الہام معلوم ہوتی ہے۔یہ دلیل اگر چہ میں نے نویں نمبر پر رکھی ہے لیکن در حقیقت نہایت عظیم الشان دلیل ہے جو خدا تعالے کے وجود کو یقینی طور پر ثابت کر دیتی ہے۔چنانچہ <mark>اللہ</mark> تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُنبتُ اللَّهُ الَّذِينَ مَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (ابراهیم: ۲۸) یعنی <mark>اللہ</mark> تعالیٰ اپنے م<mark>ومن</mark> بندوں کو اس دنیا اور انگلی دنیا میں پکی باتیں سنا سنا کر مضبوط کرتا رہتا ہے۔پس جبکہ ہر زمانہ میں <mark>اللہ</mark> تعالیٰ ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہمکلام ہوتا رہتا ہے۔تو پھر اس کا انکار کیونکر درست ہو سکتا ہے اور نہ صرف ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء اور رسولوں سے ہی ہمکلام ہوتا ہے بلکہ اولیاء سے بھی بات کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے کسی غریب بندہ پر بھی رحم کرکے اس کی تشفی کے لئے کلام کرتا ہے۔چنانچہ اس عاجز ( حضرت امیر الم<mark>ومن</mark>ین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ <mark>اللہ</mark> ) سے بھی اس نے کلام کیا