مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 353
353 گا۔پس بہر تقدیر بعثت <mark>محمد</mark> یہ عام ہے۔“ ( دافع الوسواس فی اثر ابن عباس صفحه از <mark>محمد</mark> عبد الحی لکھنوی در مطبع یوسفی واقع فرنگی محل لکھنو ) ے۔جنات مولانا <mark>محمد</mark> قاسم صاحب نانوتوی بانی دیو بند ” تحذیر الناس“ میں فرماتے ہیں:۔(0) سو عوام کے خیال میں تو رسول <mark>اللہ</mark> صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کا خاتم ہونا با میں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری <mark><mark>نبی</mark></mark> ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت <mark>نہی</mark>ں۔پھر مقام مدح میں وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ الليتين فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے۔“ تحذیر الناس صفحه ۳ نا شر مولوی <mark>محمد</mark> اسحق ما لک کتب خانہ رحیمیہ دیو بند سہارن پور ) (ب) اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کوئی <mark><mark>نبی</mark></mark> پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت <mark>محمد</mark>ی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔‘ (تحذیر الناس صفحہ ۲۵)۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔آئے گا۔66 در منشور از علامه جلال الدین سیوطی جلد ۵ صفحه ۳۰۴ الناشر دار المعرفة بیروت لبنان و تکمله م<mark>جمع</mark> البحار جلده صفحه ۸۵) کہ یہ تو کہہ کہ آنحضرت صلعم خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ن ہیں مگر یہ کبھی نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی <mark><mark>نبی</mark></mark> <mark>نہی</mark>ں حضرت امام ابن حجر ایمی حدیث " لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا “ کی مفصل بحث میں اس حدیث کو صحیح ثابت کر کے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم <mark><mark>نبی</mark></mark> تھے۔چنانچہ وہ حضرت علیؓ کی روایت بدیں الفا ظ نقل کرتے ہیں:۔وَادْخَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي قَبْرِهِ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَبِيٍّ إِبْنُ نَبِيِّ وَ بَكَى وَ بَكَى الْمُسْلِمُونَ حَوْلَهُ۔» (الفتاوى الحديثية صفح ٢٣٦- دار احياء التراث العربي بيروت الطبعة الأولى) کہ آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم کی تدفین کے وقت ان کی قبر میں ہاتھ ڈالا اور فرمایا خدا کی قسم! وہ <mark><mark>نبی</mark></mark> ہے اور <mark><mark>نبی</mark></mark> کا بیٹا بھی ہے پس آپ بھی چشم پر آب ہو گئے اور دوسرے مسلمان بھی حضور کے اردگر در و پڑے۔“ آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کا جنازہ پڑھائے بغیر اس کو دفن فرمایا تھا۔