مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 152
152 وَوَجَدَك ما لا فهدى (الضحى: ۸) پہلی آیت کا جواب :۔ذنب کا لفظ آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے لئے قرآن میں پانچ مرتبہ آیا ہے اور پانچوں مرتبہ جنگ اور فتوحات کے ذکر کے بعد ہی آیا ہے۔چنانچہ ایک جگہ لا تكُن للْخَاسِنِينَ خَصِيَّة) (النساء: ۱۰۲) سورۃ م<mark>ومن</mark>: ۸ میں پہلے نصرت کا ذکر ہے بعد میں استغفار کا۔سورۃ <mark>محمد</mark> : ۲۰ میں بھی جنگ کے ذکر کے ساتھ۔اسی طرح سورۃ نصر میں بھی فتوحات کے ذکر کے ساتھ استغفار کا حکم ہے۔سورۃ فتح میں بھی إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (الفتح: ۲) کے بعد استغفار کرنے کا حکم ہے۔پس معلوم ہوا کہ استغفار اور ذنب کا فتوحات اور نصرت الہی کے ساتھ گہرا واسطہ ہے۔خدا تعالیٰ کی نصرت کبھی گنہ گاروں اور بدکاروں کو <mark>نہی</mark>ں ملا کرتی۔کبھی نصرت <mark>نہی</mark>ں ملتی در مولیٰ سے گندوں کو پھر ذنب کے ساتھ فتوحات اور نصرت کا کیا جوڑ؟ نیز یہ کہنا کہ اے <mark><mark>نبی</mark></mark> ! تو اپنے اور م<mark>ومن</mark>وں کے لئے استغفار کر، صاف طور پر بتا رہا ہے کہ اس آیت میں ذنب کے معنی اتم یعنی گناہ <mark>نہی</mark>ں۔بلکہ بشری کمزوری کے ہیں۔قرآن مجید میں آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے لیے اہم کا لفظ <mark>نہی</mark>ں بلکہ ذنب کا لفظ ہے جس کے معنی بشری کمزوری کے ہیں۔قرآن میں آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے متعلق لکھا ہے کہ حضور پاک اور بے لوث انسان تھے۔إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمِ (القلم: ۵) کہ اے <mark><mark>نبی</mark></mark> ! تو اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ اے خدا اسمعیل کی نسل میں سے ایک ایسا عظیم الشان <mark><mark>نبی</mark></mark> پیدا کر جويز كيهم (البقرة: ۱۳۰) کا مصداق ہو یعنی ان کو پاک کرے۔قرآن مجید آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے يُزَ كَيْهِمْ کہ آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو پاک بناتے ہیں۔پھر فرمایا کہ بِايْدِى سَفَرَةٍ كِرَاهِم بَرَرَةٍ (عبس: ۱۷) کہ یہ م<mark>ومن</mark> جن کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے قرآن دیا ہے نہایت ہی پاک لوگ ہیں۔گویا آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پاک بنا بھی دیا پس ایسے عظیم الشان انسان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ خود گنہ گار تھا سراسر بے انصافی ہے۔پس ذنب کے معنے یہی ہیں کہ چونکہ <mark><mark>نبی</mark></mark> عالم الغیب <mark>نہی</mark>ں ہوتا اس لئے فتوحات اور لڑائیوں کے بعد بعض دفعہ محض بشریت کی وجہ سے بعض ایسے فیصلے سرزد ہو جاتے ہیں جن سے موجودہ لوگ تو مستفید ہو جائیں مگر بعد میں آنے والے لوگ جو بوقت فیصلہ موجود <mark>نہی</mark>ں ہوتے نقصان اٹھا لیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے <mark><mark>نبی</mark></mark>! تو ایسی بشری کمزوریوں کے غلط نتائج سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ سے