مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 149 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 149

149 کر <mark>جا</mark>نا چاہتے ہیں اور وہ ان میں روحانیت اور للہیت کی ایسی روح پھونک دیتے ہیں کہ وہی زمینی لوگ پرندوں کی طرح اڑ کر آسمانی انسان بن <mark>جا</mark>تے ہیں پھر وہ اس شعر کے مصداق ہو <mark>جا</mark>تے ہیں۔؎ ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار یہی معنے ہیں اس آیت کے انّي اَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الدِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُونُ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ (آل عمران: ۵۰) اخلق کے معنے ” پیدا کرتا ہوں“ کرنا قطعاً درست نہیں کیونکہ خلق کے معنے پیدا کرنے، کسی چیز کی ابتداء کرنے اور تجویز کرنے کے بھی ہوتے ہیں مگر اول الذکر معنوں میں یعنی پیدا کرنے کے معنوں میں سوائے خدا تعالیٰ کے یہ لفظ اور کسی کے لئے نہیں بولا <mark>جا</mark>تا۔جیسا کہ مفردات راغب جو عربی لغت کی معتبر کتاب ہے لکھا ہے۔پس اس جگہ اخْلُقُ لَكُم کے معنی ہوں گے میں تمہارے فائدہ کے لئے تجویز کرتا ہوں چنانچہ کتاب الشعراء والشعراء لابن قتیبہ کے صفحہ ۲۹ پر مشہور عربی شاعر کعب بن زہیر بن سلمیٰ کا یہ قول درج ہے۔لَانُتَ تَفْرِى مَا خَلَقْتَ وَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَخْلُقُ ثُمَّ لَا يَفْرِى اور لَأَنْتَ تَفْرِى مَا خَلَقْتَ کا ترجمہ مَا قَدَرُتَ لکھا ہے۔اسی طرح تفسیر بیضاوی تفسیر سورۃ آل عمران زیر آیت اخْلُقُ لَكُم الا لکھا ہے اَخْلُقُ لَكُمْ۔اَقْدِرُ لَكُمْ پس اس آیت کے وہی معنے درست ہیں جو ہم نے کئے۔قرآن مجید صاف لفظوں میں فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنَ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ تَسْلَبُهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ـ (الحج: ٧٢) جن لوگوں کو خدا کے سوا تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے خواہ وہ سب جمع ہو کر بھی بنانے کی کوشش کریں یہاں تک کہ اگر مکھی ان کی کوئی چیز اٹھا کر لے <mark>جا</mark>ئے تو وہ اس کو اس سے بھی نہ چھڑا سکیں۔حضرت عیسی علیہ السلام بھی انہی معبودانِ باطلہ میں سے ہیں جیسا کہ فرمایا: لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ المَسيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (المائدة: ۱۸) پس قرآن مجید تو یہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح ایک مکھی بھی نہ بنا سکتے تھے چہ <mark>جا</mark>ئیکہ ان کے متعلق چمگادڑیں اور پرندے بنانے کا ادعا کیا <mark>جا</mark>ئے۔ایسا دعویٰ کرنے والوں کو قرآن مجید کی یہ آیت پڑھنی چاہیے: آم جَعَلُوا لِلهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۖ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الرعد: ۱۷) کہ ان لوگوں نے اللہ کے شریک بنارکھے ہیں (جن کے متعلق کہتے ہیں) کہ انہوں نے بھی اس کی طرح پیدا کیا اور پھر ان کی پیدائش کی ہوئی چیزیں خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کے ساتھ مل جل گئیں۔ان کو کہ دو کہ صرف اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کے سوا اور کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے۔