مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 85
85 جواب نمبر ۲:۔مریم نے اپنے بچے کا نام یسوع رکھا نہ کہ عمانوایل۔جواب نمبر ۳:۔یسعیاہ ۸/۱ میں ایک لڑکے مہیر شالال حاش بز کی پیدائش کا ذکر ہے۔پس وہی اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔جواب نمبر ۴:۔عمانوایل کا ترجمہ ” خدا ہمارے ساتھ “ ہے۔مگر یسوع کے ساتھ خدا نہ تھا۔بوجو ہات ذیل:۔الف۔یسوع کی ناکام زندگی۔ب۔خود اس کا ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر اس کا اقرار کرنا۔ج۔چالیس دن اس کے ساتھ شیطان کا رہنا۔د۔اور پھر اس کے بعد کچھ عرصہ کے لئے اس سے جُدا ہونا۔(لوقا ۴/۱۳ ) لہذا یسوع عمانوایل <mark>نہی</mark>ں ہوسکتا۔مسیح روح <mark>اللہ</mark> ہو کر خدا <mark>نہی</mark>ں بن سکتا بارہویں دلیل:۔قرآن مجید میں مسیح کو روح <mark>اللہ</mark> کہا گیا ہے۔قرآن مجید میں مسیح کی نسبت روح منه (النساء : ۱۷۲) کا لفظ آیا ہے۔دوسری جگہ آتا ہے۔وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا (التحريم: (۱۳) ایسا ہی تیسری جگہ آتا ہے۔إِنَّمَا المسيح عيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ رُوح منه (النساء: ۱۷۲) جواب:۔ہمارا یہ مذہب <mark>نہی</mark>ں اور نہ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ سوائے خدا کے مسیح یا کسی اور کو ہم خدا ما نیں بلکہ اسلامی تعلیم اس کے صریح خلاف ہے۔چنانچہ مندرجہ بالا آیات میں سے دوسری آیت کے آخر میں <mark>اللہ</mark> تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا تَقُولُوا ثَلَثَةٌ اِنْتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ (النساء: ۱۷۲) کہ تین خدا مت کہو۔ایسے <mark>عقیدہ</mark> سے باز آجاؤ کہ تمہارے لئے یہی بہتر ہے۔اسی طرح ایک جگہ فرماتا ہے۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ المَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (المائدة: ۷۳٫۱۸ ) نیز لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَثَةِ (المائدة : ۷۴) کہ ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ مسیح خدا ہے نیز ان لوگوں نے بھی کفر کیا جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے۔علاوہ ازیں اگر کوئی روح <mark>اللہ</mark> کے لفظ سے خدا بن جاتا ہے تو اس میں حضرت مسیح کی خصوصیت <mark>نہی</mark>ں۔اس طرح سے تو پھر قرآن مجید کے رو سے <mark>ہزاروں</mark> کروڑوں بلکہ سب ہی خدا بن