مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 46

مواهب الرحمن ۴۶ اردو ترجمہ وسخروا منا وأوذينا كل اور ہمیں ہر طرح کی ایذا دی گئی ۔ ہم ہمیشہ ( ان الإيذاء۔ وما زلنا غَرَضَ سهام کے تیروں کا نشانہ بنتے رہے اور کلام کی برچھیوں ودرية رماح كلام، حتى أتی کا ہدف ٹھہرے یہاں تک کہ وقت موعود آن پہنچا الوقت الموعود، وبدا القدر اور مقدر تقدیر آگئی۔ اور وہ یہ کہ جب طاعون نے المعهود، وهو أن الطاعون لما اپنے حصار کو مضبوط کر لیا اور ہر طرف سے گھیر المکمل تمكن من حصاره، وأحدق کر لیا۔ تو حکومت کے دل میں خوف پیدا ہوا اور بجميع أسواره، أوجست اُس نے ماہر معالجین کی ایک جماعت کو ٹیکا لگانے الحكومة في نفسها خيفة کے لئے طلب کیا ۔ اُس وقت میں نے اپنے دل وطلبت للتطعيم زمرة حاذقة میں کہا اس حکومت نے جو کچھ بھی کیا ہے نیک نیتی فقلت في نفسي إنها فعلت كل ما بمشية مقدرة، فإن القيام في سے کیا ہے لیکن یہ (اللہ کی) مشیت مقدرہ کے ساتھ فعلت بمصلحة ولكنها حرب جنگ ہے۔ اور تقدیر الہی کے مقابلہ میں کھڑا ہونا شکست کھانے، بیداری سونے ، دوڑ دھوپ جنب قدر الله قعود، والتيقظ کرنا رکنے ، عقل دیوانگی، صائب الرائے بیوقوفی رقود، والسعى سكون، والعقل جنون، والرأى خرافة والإصلاح مفسدة ۔ وكان القوم اور اصلاح فساد کے مترادف ہے۔ لوگ ہمیں جاہل اور خطا کار قرار دیتے ، اور ہماری پیشگوئی کو يجهلوننا ويخطئون، ويكذبون جھٹلاتے تھے اور اس کی تصدیق نہیں کرتے بنبأنا ولا يصدقون ۔ فكنا ننتظر ما تھے۔ سو ہم اس انتظار میں سو ہم اس انتظار میں رہے کہ اللہ ہمارے اور يفعل الله بنا وبهم، وكان الناس اُن کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اور جو ہم نے ان يتحدثون على رغم ما قلنا لهم ۔ سے کہا لوگ اس کے خلاف باتیں کرتے رہے ۔ فلما أكثر الكلام، وقيل : أين پھر جب باتیں بہت زیادہ ہو گئیں اور یہ کہا الإلهام، إذا فراستی ما أخطأت جانے لگا کہ کہاں ہے الہام ! تو دفعہ میری فراست و کیاستي كالشمس أشرقت، خطا نہ گئی میری زیر کی آفتاب کی طرح چمک اٹھی