مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 164

مواهب الرحمن ۱۶۴ اردو ترجمہ ۱۳ الميدان وتبار زنا كالفتيان؟ أتتكا برتے پر تم ہمارا اس میدان ( فصاحت و بلاغت ) على الأصغر الذي كتب منه میں مقابلہ کرتے ہو۔ اور جوانمردوں کی طرح ہمارا سا منا کرتے ہو۔ کیا تم اس اصغر علی پر بھروسہ الجعفر إليك وكنت قد قررت من کرتے ہو جس کی طرف سے جعفر (زٹلی ) نے هذه القرية مع لعن نزل عليك۔ تمہیں لکھا اور تم اس بستی قادیان سے اپنے اوپر فاعلم أنهم يكذبون وليسوا رجال پڑنے والی لعنت کے ساتھ بھاگ نکلے؟ پس یاد المصارعة ولا قبل لأحد في هذه رکھو کہ وہ جھوٹے ہیں اور وہ مردِ میدان نہیں المناضلة ۔ دع تصلّفك يا ہیں۔ اور نہ کسی کو اس مقابلہ کی تاب ہے۔اے مسکین، فإنك لست من مسکین ! اپنی لاف و گزاف چھوڑ کیونکہ تو مرد الرجال، ولو كنت شيئا لما نہیں۔ اگر تجھ میں کوئی دم خم ہوتا تو تو بہانہ بنا کر فررت من الاحتيال ۔ ثم اعلم أنّی بھاگ نہ جاتا۔علاوہ ازیں تمہیں یاد رہے کہ ما رُضْتُ صعاب الأدب بالمشقة میں نے ادب کی مشکلات کو اپنی کسی محنت اور مشقت سے ریاضت نہیں کیا۔ بلکہ یہ صرف میرے والتعب، بل هذه موهبة من ربي ونلت منه سِمُطَ الدرر النُّخب رب کی۔ موہبت ہے۔ اور یہ قیمتی موتیوں کی لڑی میں نے اُس سے حاصل کی ہے۔ یہ میرا حال هذا أمرى ولكنك إن بارزتني ہے۔ لیکن اگر تم نے مجھ سے مقابلہ کیا تو تم پر اپنا فعليك خبيتك يتجلى، وسوف باطن ظاہر ہو جائے گا۔ اور میں تمہیں ضرور دکھا أريك بأي علوم تتحلى۔ إن دوں گا کہ تم کن علوم سے آراستہ ہو۔ تیرا (مجھے) تغليطك أحق بالتغليط، وليس غلط قرار دینا ، خود غلط قرار دیئے جانے کے لائق فيه دون السلاطة، لا كبيان ہے۔ اس میں صرف بد زبانی ہی ہے فصیح البیانی السليط وما جئت قريتي هذه نہیں اور تو میری بستی ( قادیان ) میں صرف لوگوں إلا لتخدع الناس، و تشیع کو دھوکہ دینے اور وسوسہ پھیلانے کے لئے آیا تھا۔