مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 114

مواهب الرحمن ۱۱۴ اردو ترجمہ ولدوا فطرة على هذه الجهلات۔ ان جہالتوں میں پیدا کئے گئے ہیں ۔ کیا وہ میری أيحسبونني أني أُحِبُّ الشهرة نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ میں شہرت پسند فيحسدون ووالله إني لا أحبّ إلا ہوں ۔ تو اس بناء پر ) وہ مجھ سے حسد رکھتے ہیں۔ مغارة الخلوة لو كانوا يعلمون ۔ بخدا مجھے تو صرف گوشہ ء تنہائی پسند ہے، کاش وہ وما كنتُ أن أخرج إلى الناس من جانتے۔ میں ایسا نہیں تھا کہ اپنے گنج تنہائی سے زاويتي، فأخرجنى ربّى وأنا كارة نکل کر لوگوں کے پاس جاتا مگر میرے رب نے من قريحتي ۔ وكنت أتنفر كل ميرى ناگواری طبع کے باوجود مجھے باہر نکالا نفرة من الشهرة ، وما كان شيء حالانکہ میں شہرت سے کلیتاً متنفر تھا اور تنہائی ألذ إلى من الخلوة، فأي ذنب سے بڑھ کر مجھے کوئی بے لذیذ و عزیز نہ تھی۔ پس اگر على إن أخرجني ربّی من حجرتی میرے رب نے مصلحت عامہ کی خاطر مجھے میرے للمصلحة العامة ۔ وما كنت من حجرے سے نکالا ہے تو اس میں مجھ پر کیا دوش ہے؟ جرثومة العلماء الأجلة، ولا من میں نہ تو جل عُلماء کی نسل میں سے تھا اور نہ بنی قبيلة من بنى الفاطمة، لأظَنَّ أَنّى فاطمہ کے قبیلے سے تا خیال کیا جاتا کہ میں اس حیلے أطلب منصب بعض آبائی بھذہ بہانے سے اپنے بعض آباؤ اجداد کا منصب حاصل الحيلة ۔ وما كان هذا إلا فعل من کرنے کا طالب ہوں ۔ یہ تو بس سراسر ایک آسمانی فعل السماء ، وما كنت أنتظره تھا ۔ نفسانی خواہشات کے پجاریوں کی طرح میں لنفسي كأهل الأهواء ۔ ثم بعد اپنے لئے اس منصب کا چشم براہ نہ تھا۔ پھر اس کے ذالك سعى العلماء كل السعى بعد علماء نے مقدور بھر کوشش کی کہ وہ ہماری عمارت ليهدوا بنياننا، ويُفرّقوا أعواننا، گرادیں۔ اور ہمارے مددگاروں کو منتشر کر دیں۔ فكان آخر أمرهم أنهم أصبحوا ليكن انجامکار وہ ناکام و نامراد ہو گئے اور اللہ نے خاسرين ۔ وجمع الله شملنا وبايعنا ہمارے شیرازے کو مجتمع کر دیا اور حق کی جستجو کرنے أفواج من الطالبين ۔ وكان هذا أمرا والی جماعتوں نے ہماری بیعت کر لی۔ اور یہ بیس سال