مواہب الرحمٰن — Page 109
مواهب الرحمن ١٠٩ اردو ترجمہ " الأمراض تشاع والنفوس مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ بیماریاں پھیلیں تضاع"، فأنزل النكال وفعل كما گی اور جانیں ضائع ہونگی ۔ چنانچہ اس نے قال ۔ ووالله إني قد أُنبئت به قبل عبرتناک عذاب نازل فرمایا اور جیسا کہا تھا نازل هذه المائة الهجرية، ثم تواتر کر دکھایا ۔ بخدا اس ہجری صدی کے آغاز سے الأخبار حتى ظهر الطاعون فی پہلے ہی مجھے اس کی نسبت بتا دیا گیا تھا۔ بعد ازیں هذه الناحية ۔ ولما بلغني هذا تواتر سے یہ خبریں آئیں یہاں تک کہ اس خطہ الخبر ووصلني منه الأثر، أجلتُ میں طاعون ظاہر ہو گئی ۔ اور جب مجھے یہ خبر ملی اور یہ فيه بصرى، وكررت فيه نظری اطلاع مجھ تک پہنچی تو میں نے نگاہ دوڑائی اور اس پر فإذا هي الآية الموعودة، والعدة گہری نظر ڈالی ، تو معلوم ہوا کہ یہ تو موعودہ نشان المعهودة ۔ ثم إن الطاعون قلل المعادين، وكثـر حـزبـنــا اور معہود وعدہ ہے۔ علاوہ ازیں اس طاعون نے دشمنوں کی تعداد میں کمی کی اور ہمارے ناتواں گروہ المستضعفين، حتى إنهم صاروا کو اتنی کثرت بخشی کہ ان کی تعداد ایک لاکھ کے لگ زهاء مائة ألف أو يزيدون ۔ وأما بھنگ یا اس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اور آج کل تو في هذه الأيام فعدتهم قريب من ان کی تعداد پہلے سے دو چند کے قریب ہو چکی ضعفها، وإن في هذه الآية لقوم ہے۔ اور اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لیے يتدبرون ۔ والذين اعتنقوا 6 بہت بڑا نشان ہے۔ اور وہ لوگ جو حسد اور کینہ کو الحسد والشحناء ، فهم يؤثرون الظلام ولا يؤثرون الضياء ، وقد اپنے گلے سے لگائے بیٹھے ہیں، وہ تاریکی کو مقدم رکھتے ہیں اور روشنی کو ترجیح نہیں دیتے۔ ان کی انتقشت الضغائن والأحقاد على طبائع پر ابتدا ہی سے کینہ و بغض نے اپنا نقش جما قرائحهم من الابتداء ، وهي شيء توارثه الأبناء من الآباء وتری رکھا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو بیٹوں کو اپنے آباؤ فيهم موادًا سُميّة من البخل اجداد سے ورثہ میں ملی ہے۔ اور تو ان میں بخل، تکبر والعجب والرياء ، ما سمعنا اور ریا کا ایسا زہریلا مادہ پاتا ہے جس کی نظیر