مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 107

مواهب الرحمن ۱۰۷ اردو ترجمہ يعرف الفرس مسرحه من الأثاثة۔ طرح پہچان لیتا ہے جیسے ایک گھوڑا نرم اور سبز گھاس والی چرا گاہ کو پہچان لیتا ہے۔ دوسرا گر وہ وہ و حزب تنفتح عيونهم برؤية ہے جن کی آنکھیں نشانات کو دیکھ کرکھلتی ہیں۔ اور الآيات، وتذوب شبهاتهم بمشاهدة البينات ۔ وفرقة أخرى کھلے کھلے نشانوں کا مشاہدہ کر کے ان کے تمام ما أُعطوا بصيرة من الحضرة، شبہات دور ہو جاتے ہیں ۔ اور ایک اور گروہ ہے جنہیں حضرت رب العزت) کی طرف سے فيخبـــــون خبط عشواء ولا بصیرت عطا نہیں کی جاتی تو ایسے لوگ ایک اندھی يصلون إلى الحقيقة، وتقتضى اونٹنی کی طرح ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں اور حقیقت قلوبهم القاسية عقوبة من العقوبات وآفة من الآفات، ولا تک نہیں پہنچ پاتے ۔ ان کی سنگ دلی انہیں مختلف قسم کی عقوبتوں اور آفتوں کی دعوت دیتی ہے اور وہ يؤمنون أبدًا حتى يُسْلَبَ منهم اس وقت تک کبھی بھی ایمان نہیں لاتے جب تک الأمن والراحة، وينزل عليهم النصب والشدة ۔ فهذا أصل کہ ان سے راحت و آرام چھین نہیں لیا جاتا اور جب تک ان پر مصائب و شدائد کی افتاد نہیں پڑتی۔ العذاب النازل من السماء ، پس یہ ہے آسمان سے نازل ہونے والے عذاب کی ۸۲ ولذالك نزل الطاعون وجہ اور اسی وجہ سے طاعون نازل ہوئی پس چاہیے کہ فليفكر من كان من أهل العقل اہل عقل و خرد اس پر غور کریں۔ بے شک دین میں والدهاء لا إكراه فی الدین کوئی جبر نہیں لیکن ان کی طبائع کسی نہ کسی قسم کے جبر ولكن تقتضى طبائعهم نوعا من کا تقاضا کرتی ہیں۔ اور ملت میں بھی کوئی جبر نہیں الإكراه، ولا جبر في الملة لیکن ان کی فطرت انتباہ کے لیے ایک طرح کا ولكن تطلب فطرتهم قسمًا من جبر چاہتی ہے۔ اور اس میں کوئی مضائقہ اور الجبر للانتباه ۔ ولا حرج ولا اعتراض نہیں کیونکہ یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس میں اعتراض، فإنه أمر ما مسه أيدى انسانی ہاتھ کا دخل نہیں بلکہ یہ خدائے رحمن کی