منتخب تحریرات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 51

منتخب تحریرات — Page 40

نور کا موسم جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ پھل اپنے وقت پر آتے ہیں ایسا ہی نور بھی اپنے وقت پر ہی اُترتا ہے۔ اور قبل اس کے جو وہ خود اُترے کوئی اس کو اتار نہیں سکتا۔ اور جبکہ وہ اُترے تو کوئی اس کو بند نہیں کر سکتا۔ مگر ضرور ہے کہ جھگڑے ہوں اور اختلاف ہو مگر آخر سچائی کی فتح ہے۔ کیونکہ یہ امر انسان سے نہیں ہے اور نہ کسی آدم زاد کے ہاتھوں سے بلکہ اُس خدا کی طرف سے ہے جو موسموں کو بدلاتا اور وقتوں کو پھیرتا اور دن سے رات اور رات سے دن نکالتا ہے۔ وہ تاریکی بھی پیدا کرتا ہے مگر چاہتا روشنی کو ہے۔ وہ شرک کو بھی پھیلنے دیتا ہے مگر پیار اُس کا توحید سے ہی ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کا جلال دوسرے کو دیا جائے۔ جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے اس وقت تک کہ نابود ہو جائے خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ توحید کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔ (روحانی نا خزائن جلد مسیح ۱۵ ہندوستان میں صفحہ ۶۵) اے خدا اے کار ساز و عیب پوش و کردگار اے میرے پیارے مرے محسن میرے پروردگار یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے میرے حاجت برار اے مرے یار یگانہ اے مری جاں کی پنہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار اے فدا ہو تیری راہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار ابتداء سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار (روحانی خزائن جلد ۲۱ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۲۷)