منتخب تحریرات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 51

منتخب تحریرات — Page 33

گناه گناه در حقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پُر جوش محبت اور محبا نہ یاد الہی سے محروم اور اور بے نصیب ہو۔ اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔ یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔ پس خشکی کی طرح گناہ اُس پر غلبہ کرتا ہے۔ سو اس خشکی کا علاج خدا کے قائم کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے۔ (۱) ایک محبت (۲) استغفار جس کے معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش ۔ کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جمی رہے تب تک وہ سرسبزی کا امیدوار ہوتا ہے۔ (۳) تیسر اعلاج تو بہ ہے۔ یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذلیل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا اور اس سے اپنے تئیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں باہر نکالنا۔ اور توبہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ تو بہ کا کمال اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔ تمام نیکیاں تو بہ کی تکمیل کے لئے ہیں۔ ? (روحانی خزائن جلد ۲ ۱ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صفحہ ۳۲۸-۳۲۹)